جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » انٹرٹینمنٹ » مشہورومعروف اداکارزاہد احمد کی جیتی جاگتی کہانی،انکی زبانی:

مشہورومعروف اداکارزاہد احمد کی جیتی جاگتی کہانی،انکی زبانی:

کہتے ہیں ہمت مرداں مدد خدا، زندگی میں ایسے بہت سے مراحل آتے ہیں جب انسان مایوس ہو جاتا ہے اورہاتھ پیرچھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے مگر کوشش سے کیا چیزممکن نہیں؟ آپ ہمت کریں تو خدا ساری مشکلات آسان کر دیتا ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے مشہورومعروف اداکارزاہد احمد ہیں جو اپنی پراثر شخصیت اور جاندار اداکاری کے باعث بےحد پسند کیے جاتے ہیں۔خوبرو اداکار نے سال دو ہزار گیارہ سے لیکر آج تک کے حالات شیئر کرتے ہوئے اپنے آفیشل پیج پر لکھا کہ ٢٠١١ میں ایک آئی ٹی کمپنی کے لیے چیف آپریٹنگ افسر کے طور پرکام کرتا تھا۔ اسی سال شادی ہوئی اور ہنی مون کیلئے ہم ملائیشیا گئے۔ ہنی مون کے آخری دن علم ہوا کہ آئی ٹی کمپنی ختم ہو چکی ہے ۔ پھر قرض کے بوجھ، اپنے مستقبل سےخوفزدہ دلہن کے ہمرا اور نوکری کے بغیر پاکستان واپس آگیا۔زاہد احمد نے مزید بتایا کہ ٢٠١١ میں نوکری ڈھونڈتا رہا،٢٠١٢ یں خوفناک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی اس بری طرح سے متاثر ہوئی کہ چار ماہ تک حرکت کرنے کے قابل بھی نہ رہا۔ اس سال اپنی آواز کی بدولت ایک ریڈیو شو کا موقع ملا اور اسی شو کے چکرمیں ریڑھ کی ہڈی مزید متاثرہوتی رہی کہ حرکت کرنے سے قاصر ہوگیا اور شو بھی ہاتھ سے گیا۔پھرپاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈٰیکل سائنسز (پمز) میں سرجری ہوئی اور کام کا دوبارہ آغاز کیا۔ پہلے سے دس فیصد کم تنخواہ پر نئی نوکری کا آغاز کیا۔ سخت محنت کرتارہا ، اس دوران شادی شدہ زندگی بھی داؤ پر لگی رہی۔دو ہزار بارہ میں سرکاری ٹی وی پر ایک شومیں کام کرنے کا موقع ملا جس میں انگریزی فلموں سے متعلق بات کرنا ہوتی تھی۔ اس وقت کے ہیڈ نے میری انگریزی کو دیکھتے ہوئے فل ٹائم جاب آفر کی اس وقت سرکاری ٹی وی ’’پی ٹی وی ورلڈ‘‘ کا انگلش میں آغازہونے جا رہا تھا۔ ٢٠١٣ میں چینل لانچ ہوا، پی پی حکومت ختم ہونے کے بعد سرکاری ٹی کے ہیڈ کو بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔دوہزارتیرہ میں انور مقصود کی ٹیم نے ڈرامہ ’’سوا چودہ اگست‘‘ میں جناح کا کرداراداکرنے کیلئے رابطہ کیا۔ اس دوران ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا اور ٢٢ کلو وزن بھی کم کیا۔ ٢٠١٤ میں تھیٹر کرنا چھوڑ دیا کیونکہ پروڈیوسرکرپٹ تھا اوراس پر سب کی رقم واجب الادا تھی۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتیں، مشکلات کا دورابھی باقی تھا۔ زاہد احمد نے مزید بتایا کہ ٢٠١٤ میں نہ گھر تھا نہ ہی پیسہ بس کراچی کی سڑکوں پر بیوی کے ہمرا مرنے کیلئے آزاد تھا کہ اسی دوران نجی ٹی وی کی ایک پروڈیوسر جس نے مجھے تھیٹرکرتا دیکھا تھا، رابطہ کیا اور میں آڈیشن کے بعد ڈرامہ ’’محرم ‘‘ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ دوہزار سولہ تک میں اب جو ہوں آپ کے سامنے ہوں۔پنی کامیابی کی کہانی سنانے کا اختتام زاہد نے بہت ہی پراثرالفاظ میں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر میری کہانی آپ کی ہمت نہیں بندھاتی، حوصلہ افزائی نہیں کرتی تو میں نہیں جانتا اور کیا چیز ایسا کرے گی۔ میں زاہد احمد ہوں، میں پرجوش ہوں اور میں مستقبل ہوں‘‘۔ ایسی ہمت اور حوصلے سے اگر ہم آگے بڑھیں تو یقینند منزل اور کامیابی ضرور ملتی ہے اور زاہد احمد اس کی بہترین مثال بن کر پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ابھرے ہیں۔

مشہورومعروف اداکارزاہد احمد کی جیتی جاگتی کہانی،انکی زبانی: Reviewed by on . کہتے ہیں ہمت مرداں مدد خدا، زندگی میں ایسے بہت سے مراحل آتے ہیں جب انسان مایوس ہو جاتا ہے اورہاتھ پیرچھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے مگر کوشش سے کیا چیزممکن نہیں؟ آپ ہمت ک کہتے ہیں ہمت مرداں مدد خدا، زندگی میں ایسے بہت سے مراحل آتے ہیں جب انسان مایوس ہو جاتا ہے اورہاتھ پیرچھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے مگر کوشش سے کیا چیزممکن نہیں؟ آپ ہمت ک Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top