پیر , 24 جولائی 2017

مصحف

مصحف عربی زبان میں صفحات کو کہه سکتے ہیں مگر اسے عام طور پر عربی میں قرآن پاک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی موضوع پر نمرہ احمد نے اس کتاب میں قلم اٹھایا ہے۔ نمرہ احمد کی خاصیت ہے کہ وه کبھی نصیحت نہیں کرتی بلکہ اپنے مدعے کو اس خوبصورتی سے الفاظ میں ڈھالتی ہے کہ پڑھنے والے کے سیدھے دل میں اتر جاتا ہے اسے کسی نصیحت کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
اس کہانی کو پہلےسلسلہ وار لکها گیا پھر کتابی شکل میں ڈھالا گیا۔ اس کہانی کا اہم مقصد لوگوں میں قرآن پاک کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ کہانی ایک لڑکی محمل کی ہے۔ جو ایک یتیم لڑکی ہے اور جائیداد کی مالک هے مگر اس جائداد پر اس کے تایا چاچا نے قبضہ کیا ہوتا ہے۔ ان حالات میں محمل اپنےخاندان والوں سے نالاں ہے اور کچھ ایسا چاہتی ہے جس سے اس کی جائیداد اسے مل جائے۔ وہ کالج میں لندن کے لیے اسکولر شپ کے لیے اپلائی کرتی ہے۔
اس کا کزن اسے بہکا کر اسے بیچ دیتا ہے ۔ وهاں سے اس کی زندگی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ اور اس کو ایک لڑکی فرشتے ملتی ہے جو بعد میں اس کی بہن نکلتی ہے۔ اور اسے وهاں سے نکال کر اس کے گھر پہنچاتی ہے اوراسے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ اس کی زندگی بے راہ روی کا شکار ہے وه اس کی بعد قرآن کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردیتی ہے۔ اور اسے ادراک ہوتا ہے کہ قرآن پاک کے ذریعے الله پاک ہم سے کلام کرتے ہیں اور ہمیں ہمارے مسائل کا بتاتے ہیں۔ بے شک اس بات کو بہت اچھی سے اس ناول میں بیان کیا گیا ہے کہ بے شک قرآن پاک ایک بہترین ضابطہ حیات ہے۔
اس میں سب سے بہترین بات یہ ہے که ان لوگوں کی الجھن بھی سلجھائی گئی ہے جو سوچتے ہے کہ قرآن ان کے دل میں نہیں اترتا ۔ اس بات کو اس طرح کہا گیا ہے کہ عرب لوگوں میں بہت سی برائیاں تهی تو خوبیاں بھی تھی ان میں سے ایک ان کی حق گوئی تهی ۔ اس لیے اس بات کو ایسے بیان کیا گیا ہے کہ کسی جھوٹے کے دل میں قرآن نہیں اترتا۔ جو لوگ اصلاحی کتابیں پڑھنے کے شوقین ہے ان کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔

مصحف Reviewed by on . مصحف عربی زبان میں صفحات کو کہه سکتے ہیں مگر اسے عام طور پر عربی میں قرآن پاک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی موضوع پر نمرہ احمد نے اس کتاب میں قلم اٹھایا ہے۔ ن مصحف عربی زبان میں صفحات کو کہه سکتے ہیں مگر اسے عام طور پر عربی میں قرآن پاک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی موضوع پر نمرہ احمد نے اس کتاب میں قلم اٹھایا ہے۔ ن Rating:
scroll to top