جمعہ , 21 جولائی 2017

Home » اہم » ملالہ یوسفزئی کا نوبل پرائز

ملالہ یوسفزئی کا نوبل پرائز

کیلاش کو کل اوسلو میں ہماری ملالہ یوسفزئی کے ساتھ امن کا نوبل انعام ملا‘ نوبل انعام دنیا کا معزز ترین ایوارڈ ہے‘ ملالہ یوسف زئی یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم عمر ترین خاتون ہے‘ یہ اس وقت صرف سترہ سال کی ہیں‘ ملالہ نے 12 سال کی عمر میں بی بی سی اردو میں گلی مکئی کے نام سے سوات کی ڈائری لکھنا شروع کی‘ وہ طالبان کا دور تھا‘ پاکستانی طالبان سوات پر قابض ہو چکے تھے‘ سرکاری انتظامیہ سوات سے رخصت ہو چکی تھی‘ علاقے کے تمام اختیارات مقامی کمانڈرز کے ہاتھوں میں تھے‘ وہ لوگ سوات میں پولیس بھی تھے اور عدالت بھی۔ لڑکیوں کو اسکول اور کالج جانے سے روک دیا گیا‘ بچیوں کے چار سو سے زائد اسکول بارود لگا کر اڑا دیے گئے۔

ملالہ بہت باہمت بچی تھی‘ اس نے یہ غیر قانونی اور غیر شرعی احکامات ماننے سے انکار کر دیا‘ یہ اٹھ کھڑی ہوئی‘ اس نے گل مکئی کا فرضی نام رکھا‘ ڈائری لکھنا شروع کی اور پوری دنیا میں سوات کی بچیوں کی آواز بن گئی‘ جون 2009ء میں سوات میں ملٹری آپریشن ہوا‘ طالبان پسپا ہوئے‘ سرکاری رٹ دوبارہ اسٹیبلش ہوئی‘ میڈیا سوات پہنچا‘ گل مکئی دوبارہ ملالہ بن گئی‘ ملالہ کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا اعتماد اور ٹھہراؤ دے رکھا ہے‘ یہ بولنا جانتی ہے‘ یہ کیمروں کے سامنے آئی اور ملک اور بیرون ملک توجہ حاصل کر لی‘ طالبان کو گل مکئی کے پیچھے چھپی ملالہ کا علم ہوا تو 9 اکتوبر 2012ء کو اس پر حملہ کر دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے ملالہ کی جان بچا لی لیکن حملے کے آثار آج بھی اس کے چہرے کی بائیں سائیڈ پر موجود ہیں‘ اس کا آدھا چہرہ سُن ہے اور اس کے ہونٹ کی ایک سائیڈ بھی ہلکی سی لٹکی ہوئی ہے‘ ملالہ 15 اکتوبر 2012ء کو علاج کے لیے برمنگھم کے کوئین الزبتھ اسپتال پہنچی‘ یہ تندرست ہو گئی لیکن پاکستان میں اس کی جان محفوظ نہیں چنانچہ یہ برطانیہ میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہو گئی‘ یہ برمنگھم میں رہتی ہے اور ایجبسٹن ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے‘ میں 5 مارچ 2014 ء کو اس سے ملاقات کے لیے برمنگھم گیا‘ ملالہ سے ملاقات ہوئی‘ میں نے اس کی روح کو سوات کے لیے تڑپتے ہوئے پایا۔

ملالہ پاکستان کی واحد شہری ہے جس نے 38 عالمی ایوارڈز اور اعزاز حاصل کیے‘ نوبل کمیٹی نے 10 اکتوبر 2014ء کو اس کے لیے نوبل پیس پرائز کا اعلان کیا‘ یہ ایوارڈ کیلاش سیتارتھی اور ملالہ دونوں کو مشترکہ ملا‘ ملالہ اس اعزاز کی حق دار ہے کیونکہ پاکستان بالخصوص سوات جیسے علاقے کی لوئر مڈل کلاس بچی میں اتنی ہمت‘ جرات اور اتنی استقامت واقعی کمال ہے! ہم اگر ملالہ کی ان خوبیوں کو فراموش بھی کر دیں تو بھی اس اعزاز کے لیے ملالہ کی ایک خوبی کافی ہو گی اور وہ خوبی ہے اللہ تعالیٰ کا کرم۔ اللہ تعالیٰ نے 20 کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ملالہ کو نوبل انعام اور اتنی پذیرائی اور بین الاقوامی عزت کے قابل سمجھا۔

ملالہ یوسفزئی کا نوبل پرائز

ملالہ یوسفزئی کا نوبل پرائز

یہ بچی اللہ تعالیٰ کے اس اصول کی عملی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو عزت دینا چاہے تو خواہ پوری دنیا اس شخص کے خلاف کیوں نہ ہو جائے وہ شخص عزت ضرور پاتا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ملالہ کو عزت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا چنانچہ اسے یہ عزت ملی اور ہم اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ مان لینا چاہیے‘ ہمیں ملالہ سے حسد کے بجائے رشک کرنا چاہیے‘ پوری قوم کو اس کی تعریف بھی کرنی چاہیے اور اسے مبارک باد بھی پیش کرنی چاہیے لیکن اس مبارک باد اور تعریف کے باوجود ہمیں یہ حقیقت بھی ماننا ہو گی کیلاش سیتارتھی اور ملالہ یوسف زئی میں بہت بڑا فرق ہے‘ کیلاش کو یہ ایوارڈ 80 ہزاربچوں کی حالت بدلنے کے بعد ملا‘ کیلاش نے کام پہلے کیا اور ایوارڈ بعد میں حاصل کیا جب کہ ملالہ یوسف زئی نے ایوارڈ پہلے حاصل کیا اور کام اس نے اب کرنا ہے۔

ملالہ نے ابھی پاکستان میں ’’بچپن بچاؤ آندولن‘‘ اور چلڈرن بینک جیسے ادارے بنانے ہیں‘ یہ بچی دنیا کے ان چند خوش نصیب لوگوں میں شمار ہوتی ہے جنھیں اللہ تعالیٰ عزت اور شہرت پہلے دیتا ہے اور ان سے کام بعد میں لیتا ہے‘ ملالہ نے اگر اللہ تعالیٰ کایہ پیغام سمجھ لیا‘ یہ جان گئی اس کی زندگی آغاز کے بجائے اختتام سے اسٹارٹ ہو رہی ہے تو یہ بچی کمال کر دے گی‘ یہ پاکستان کی ہر بچی کو ملالہ بنا دے گی‘ یہ کیلاش سیتارتھی سے بڑی شخصیت بن کر ابھرے گی اور وہ وقت آئے گا جب پورا ملک کھڑا ہو کر اس کے لیے تالیاں بجائے گا اور نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی اعلان کرے گی ہم نے آج تک 860 لوگوں کو نوبل انعام دیا مگر صرف ملالہ نے خود کو اس اعزاز کا اصل حق دار ثابت کیا لیکن ملالہ نے اگر نوبل انعام کو آخری منزل سمجھ کر خود کو برطانیہ اور میڈیا تک محدود کر دیا تو یہ اعزاز بہت جلد اس کے لیے بے عزتی کا باعث بن جائے گا‘ لوگ اسے پہچانیں گے لیکن اس کی عزت نہیں کریں گے اوریہ صرف تاریخ تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔

ملالہ نے آج فیصلہ کرنا ہے یہ اعزاز اس کا آغاز سفر ہے یا پھر اختتام سفر۔ اس نے دس دسمبر 2014ء سے ’’میڈیا کوئین‘‘ کا سفر شروع کرنا ہے یا پھر پاکستان کی کیلاش سیتارتھی بننا ہے اور یہ دس دسمبر کے دن سے مستقبل کے روشن دن کی طرف چلے گی ‘ تاریخ کے اندھیرے غار میں اترے گی ‘ خوش قسمت ملالہ بنے گی یا پھر بد نصیب ملالہ۔

ملالہ کا سفر آج سے شروع ہوتا ہے!

ملالہ یوسفزئی کا نوبل پرائز Reviewed by on . کیلاش کو کل اوسلو میں ہماری ملالہ یوسفزئی کے ساتھ امن کا نوبل انعام ملا‘ نوبل انعام دنیا کا معزز ترین ایوارڈ ہے‘ ملالہ یوسف زئی یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم عمر ت کیلاش کو کل اوسلو میں ہماری ملالہ یوسفزئی کے ساتھ امن کا نوبل انعام ملا‘ نوبل انعام دنیا کا معزز ترین ایوارڈ ہے‘ ملالہ یوسف زئی یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم عمر ت Rating:
scroll to top