جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » ملالہ یوسف زئی جس نے تعلیم کے لیے جنگ لڑی:

ملالہ یوسف زئی جس نے تعلیم کے لیے جنگ لڑی:

قوم کی بیٹی، پاکستان کی پہچان اور دنیا کی سب سے کمسن نوبل انعام یافتہ شخصیت ملالہ یوسفزئی 1997ء) مینگورہ، ضلع سوات، خیبر پختونخوا میں پیدا ہو ئٰٰٰی .وہ وادی سوات میں تعلیم اور حقوق نسواں کے لئے آواز اٹھانے کی وجہ سے مشہور ہوئی.میڈیا کے مطابق جنوری 2009ء کے بالکل شروع میں کسی تحریک طالبان پاکستان نامی مسلح گروہ نے سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگاتے ہوئے اعلان کیا کہ 15 جنوری 2009ء کے بعد لڑکیاں سکول نہ جائیں۔ یہ اعلان پہلے ہوا جبکہ سکول نہ جانے کی ”ڈیڈ لائن“ 15 جنوری دی گئی۔ ایسے حالات میں سوات سے تعلق رکھنے والی ایک ساتویں جماعت کی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے 3 جنوری 2009ء سے اپنی ڈائری لکھنی شروع کی، پھر یہ ڈائری ”گل مکئی“ کے قلمی نام سے بی بی سی اردو پر 9 جنوری 2009ء سے قسط وار شائع ہونی شروع ہوئی اور 13 مارچ 2009ء کو غالباً آخری اور دسویں قسط شائع ہوئی۔ اس ڈائری کے تمام لنکس تحریر کے آخر پر دے رہا ہوں۔ شورش زدہ علاقے کی دیگر کئی گمنام بچیوں کی طرح ایک گمنام ملالہ بھی تھی، مگر اسے اپنے اور اپنے علاقے کے حالات کے متعلق ڈائری لکھنے اور بی بی سی اردو پر شائع ہونے سے عالمی شہرت حاصل ہو گئی۔ بی بی اسی اردو کے مطابق اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ملالہ یوسف زئی کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے لگیں۔ ملالہ پر بین الاقوامی میڈیا کے دو اداروں نے فلمیں بھی بنائیں۔ نومبر 2011ء میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانیوہ نقاب پوش ’طالبان‘ تھے، اور ان کا ’ہدف‘ وہ لڑکی تھی گولی کھا کر جس کا عزم اور پختہ ہوگیا، اسے ہم اور آپ پاکستان کی دوسری اور دنیا کی کم ترین نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام سے جانتے ہیں۔ نے اعلان کیا کہ ملالہ یوسفزئی کو سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے (جس کی بنیاد غالباً بی بی سی اردو پر ڈائری لکھنا تھا) پر ”امن ایوارڈ“ اور پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی پانچ لاکھ روپے کا اعلان کر دیا۔ ہمارا میڈیا تو کہتا ہے کہ ملالہ کو ستارہ جرات بھی دیا گیا.
یہ 9 اکتوبر 2012 کا ایک روشن دن تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس روشن دن کی روشنی آگے چل کر تاریکی کا شکار کئی لڑکیوں کی زندگی کو منور کردے گی۔ چند نقاب پوش، ہاتھوں میں ہتھیار اٹھائے افراد نے لڑکیوں کی ایک اسکول وین کو روکا، اور اندر جھانک کر اپنے مطلوبہ ہدف کا پوچھا۔ ہدف نے خود اپنا ’تعارف‘ کروایا، جس کے بعد بندوق سے ایک گولی چلی اور ’ہدف‘ کے چہرے اور کندھے کو خون کر گئی۔
وہ نقاب پوش ’طالبان‘ تھے، اور ان کا ’ہدف‘ وہ لڑکی تھی گولی کھا کر جس کا عزم اور پختہ ہوگیا، اسے ہم اور آپ پاکستان کی دوسری اور دنیا کی کم ترین نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام سے جانتے ہیں۔ملالہ یوسف زئی اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی خوفناکی اور اس کے بعد خود پر گزرنے والی اذیت کو بھولی نہیں ہے۔ چنانچہ وہ کہتی ہے، ’ہمیں اپنی بلند آواز کی اہمیت صرف اسی وقت پتہ چلتی ہے، جب ہمیں خاموش کردیا جاتا ہے‘۔ملالہ کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے تعلیم کا پھیلاؤ۔ افریقہ کے پسماندہ اور مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی وہ یہی پیغام لے گئی۔ ’ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا کو تبدیل کرسکتا ہے‘۔وہ کہتی ہے، ’میں نہیں چاہتی کہ لوگ مجھے ایسے یاد رکھیں، ’وہ لڑکی جس نے طالبان سے گولی کھائی‘، میں چاہتی ہوں لوگ مجھے یاد رکھیں، ’وہ لڑکی جس نے تعلیم کے لیے جنگ لڑی‘۔ یہی میرا مقصد ہے جس کے لیے اپنی تمام زندگی صرف کرنا چاہتی ہوں‘۔
ملالہ بتاتی ہے، ’میرے والد نے اپنے دفتر کے باہر ابراہم لنکن کے اس خط کی نقل فریم کروا کر آویزاں کی ہوئی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کی استاد کو لکھا تھا۔ یہ خط پشتو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس میں ابراہم لنکن کہتا ہے، ’میرے بیٹے کو کتابیں ضرور پڑھاؤ، لیکن اسے کچھ وقت دو تاکہ یہ بلند آسمانوں میں پرندوں کی پرواز پر غور کرسکے، سورج کی روشنی میں کھلتے پھولوں پر دھیان دے، اور سبزے کی سحر انگیزی کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اسے سکھاؤ کہ ناکام ہوجانا زیادہ معتبر ہے بجائے اس کے کہ کسی کو دھوکہ دیا جائے‘۔اپنے گزرے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ملالہ بتاتی ہے، ’میں اپنے بچپن میں خدا سے دعا کرتی تھی کہ وہ مجھے 2 انچ مزید لمبا کردے۔ اس نے میری دعا یوں قبول کرلی کہ مجھے اتنا بلند کردیا کہ میں خود بھی اپنے آپ تک نہیں پہنچ سکتی‘۔اس کا کہنا ہے، ’جب ہم سوات میں تھے تو میری والدہ مجھے کہتی تھیں، ’اپنا چہرہ ٹھیک سے چھپاؤ، لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں‘۔ اور میں ان سے کہتی تھی، ’اس سے کیا فرق پڑتا ہے، میں بھی تو انہیں دیکھ رہی ہوں‘۔
لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ملالہ کا مشن جاری ہے۔ اپنے نام پر قائم کردہ ادارے کے ساتھ مل کر وہ پوری دنیا کو یاد دلانا چاہتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم ہر حکومت کی ذمہ داری ہے۔وہ لڑکیوں کے لیے پیغام دیتی ہے، ’ہزاروں کتابیں پڑھو اور خود کو علم کی دولت سے مالا مال کرلو۔ قلم اور کتاب ہی وہ ہتھیار ہیں جن سے شدت پسندی کو شکست دی جاسکتی ہے‘۔

ملالہ یوسف زئی جس نے تعلیم کے لیے جنگ لڑی: Reviewed by on . قوم کی بیٹی، پاکستان کی پہچان اور دنیا کی سب سے کمسن نوبل انعام یافتہ شخصیت ملالہ یوسفزئی 1997ء) مینگورہ، ضلع سوات، خیبر پختونخوا میں پیدا ہو ئٰٰٰی .وہ وادی سوا قوم کی بیٹی، پاکستان کی پہچان اور دنیا کی سب سے کمسن نوبل انعام یافتہ شخصیت ملالہ یوسفزئی 1997ء) مینگورہ، ضلع سوات، خیبر پختونخوا میں پیدا ہو ئٰٰٰی .وہ وادی سوا Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top