جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » اضافی » موتی مسجد

موتی مسجد

moti-masjid-lahore-fortموتی مسجد اپنے طرزکی بہت خوبصورت مسجد جانی جاتی ھے ۔ اس کی تعمیر17 صدی 1654 میں مکمل ہوئی اوراسکا نام "موتی مسجد" اس لیے رکھا گیا کیونکہ اسکے گنبد کی شکل موتی کی طرز کی ھے۔ یہ مسجد لاہوری قلعہ کے اندر، عالمگیر گیٹ کے قریب واقع ھے۔ مسجد کو سفید ماربل سے بنایا گیا ہے اور اس کو مغل بادشاہ " شاہ جہان" نے تعمیر کروایا تھا ۔ ڈھانچے کے اعتبار سے یہ مغل فنِ تعمیر کا خاصا ھے ۔ تعمیر میں استعمال ہونے والے ماربل کو مکرانا سے منگوایا گیا تھا اور مسجد کی عمارت تین گنبد پر مشتمل ھے جن میں سے ایک بڑا اور دو چھوٹے ہیں ۔ مسجد کا اندرونی حصہ بالکل سادہ ھے جبکہ چھتوں کو چار مختلف ڈیزاین میں بہت خوبصورتی سے سجایا گیا ھے۔ مسجد کا بیرونی حصہ سفید اور پھیکے رنگ کا ھے ۔ مسجد "آگرہ" اور "دہلی " میں موجود منی اورجیول مساجد جیسی ہے جن کو شاہ جہاں نے ہی تعمیر کروایا تھا۔
اگر تاریخ کا زکر کیا جائے تو مغلیہ سلطنت کی رحلت کے بعد ، مسجد کو زبردستی سکھوں کے ایک گوردوارے میں تبدیل کیا گیا تھا اور اس کا نام "موتی مندر " رکھ دیا گیا تھا ۔ سکھوں کا دور رنجیت سنگھ سکھ کی حکمرانی میں 1716 سے 1799 تک رہا۔ رنجیت سنگھ نے اس کو سرکاری عمارت کے طور پر بھی استعمال کیا ۔1849 میں جب برطانیہ نے پنجاب پر قبضہ کر لیا توانھوں نے مسجد سے بہت سے قیمتی پتھر دریافت کیے۔عمارت کو بعد اس کے سابق حیثیت پر بحال کیا گیا تھا ، اور مذہبی اوشیش قریبی بادشاہی مسجد میں محفوظ رہے تھے .21
تعمیر کے اتنے عرصے بعد بھی یہ مسجد اپنی پہچان بنائے ہوئے ہے اور مغل دور کی تہذیب کی عکاسی کر رہی ھے جو کہ  بہت سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے ۔



								    
موتی مسجد Reviewed by on . موتی مسجد اپنے طرزکی بہت خوبصورت مسجد جانی جاتی ھے ۔ اس کی تعمیر17 صدی 1654 میں مکمل ہوئی اوراسکا نام "موتی مسجد" اس لیے رکھا گیا کیونکہ اسکے گنبد کی شکل موتی ک موتی مسجد اپنے طرزکی بہت خوبصورت مسجد جانی جاتی ھے ۔ اس کی تعمیر17 صدی 1654 میں مکمل ہوئی اوراسکا نام "موتی مسجد" اس لیے رکھا گیا کیونکہ اسکے گنبد کی شکل موتی ک Rating:
scroll to top