جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » سٹوڈنٹ کارنر » نجی تعلیمی ادارے یا تجارتی مراکز

نجی تعلیمی ادارے یا تجارتی مراکز

کچھ عرصہ پہلے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی یونیورسٹیوں کا ایک جال پھیل رہا ہے جو رجسٹرڈ نہیں ہیں، ایسی یونیورسٹیوں کو بند کیا جانا چاہئے۔ ان یونیورسٹیوں کی تعداد 80 کے قریب ہے۔یہ ادارے پچھلے چند سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں ڈگریاں طالب علموں میں بانٹ چکی ہے۔ متعدد مقامات پر ایسے کیسز سامنے آرہے ہیں کہ گورنمنٹ ملازمتوں میں ان یونیورسٹیز کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کر رہی ہے۔ کیونکہ ان کی ڈگریاں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ وہ طالب علم ہیں جن کو گورنمنٹ سکیٹرز میں کہیں بھی داخلے نہیں ملے تو پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ میں ان کو سیلف فنانس کی رو پر داخلے مل گئے اور یہ لوگ اس وقت کو کوس رہے ہیں کہ پیسے بھی گئے اور کام بھی نہیں ہوا۔
آج کل نجی تعلیمی یونیورسٹیز بہتر تعلیمی نتائج کے سبب تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ گورنمنٹ کے اداروں کی نسبت نجی تعلیمی اداروں پر زیادہ بھرسہ کرتے ہیں اور متعدد جعلی نجی تعلیمی اداروں کے دھوکے میں آرہے ہیں ۔ آج کل عام طور پر نجی اداروں کی رجسٹریشن کا مسئلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کیونکہ مدت پہلے گورنمنٹ نے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کے لئے سکولز یونیورسٹز اور کالجزکی منظوری دی۔ مگر ان سکولز اور کالجوں کے منتظمین نے رجسٹریشن کے لئے کوئی کام نہیں کیا اور صرف پیسے بٹورنے کے لئے بیٹھ گئے۔ اب اداروں کے کرتا دھرتا سوچ میں بیٹھے ہوئے ہیںکہ کیا کِیا جائے کیونکہ گورنمنٹ کو رجسٹریشن کی مد میں ایک بڑی رقم دینی ہے اور گورنمنٹ چاہتی ہے کہ اسٹاف بھی اعلٰی کوالیفائیڈ ہو اور کوالٹی ایجوکیشن بھی دی جا رہی ہو۔ جن اداروں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے انہیں گورنمنٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بند کر دیا گیا ہے جو کہ ایک بہترین اقدم ہے۔

اب اگر دیکھا جائے تو نجی شعبے میں تعلیم ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ جس کی وجہ سے کیریئر بلڈنگ ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی مثالیں ہم اردگرد اپنے علاقے اور شہروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے اخبار کے لئے پرائیویٹ اسکولوں پر اسائنمنٹ تیار کرنے کو کہا گیا جس کے لئے میں نے پشاور کے گلبہار اور کوہاٹی کا علاقہ دیکھا۔ وہاں ایک گلی میں کئی اسکول قائم تھے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیںکہ پرائیویٹ سکولز کتنی تعداد میں موجود ہیںاور اس وجہ سے معیار تعلیم کی کیا صورتحال ہے۔

گورنمنٹ اسکولوں میں تو میں نے خود دیکھا ہے کہ دوردرازعلاقوں میں تعینات اساتذہ پندرہ، پندرہ یا ہفتہ ہفتہ ڈیوٹی دیتے ہیں۔ یعنی کہ ایک اسکول میں 6 اساتذہ ہیںتو3 اساتذہ ایک مہینے کی ڈیوٹی دیتے ہیں اور تین دوسرے مہینے کی اور تنخواہیں مفت میں سمیٹی جارہی ہیں۔ اب اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام کس قدر تباہ ہو چکا ہے۔ہمارے سیاسی رہنمائوں نے اپنے علاقوں میں جہاں اپنے نالائق رشتہ دار اور خاندان والے دیکھے ان کو پی ٹی سی کی پوسٹ پر تعینات کر دیا۔آج ان سے پوچھیں کہ پی ٹی سی کا مطلب کیا ہے تو انہیں پتہ نہیں ہو گااور 10 سالوں سے وہ پی ٹی سی کے پوسٹ پر تعینات ہمارے مستقبل کر معماروں سے کھیل رہے ہیں۔

اِن نجی تعلیمی اداروں میں جتنی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔اِن کے بارے میں پڑھ کر آپ لوگ سکتے میں آجائیں گے۔پہلے تو آپ اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں اندازہ لگائیں۔جتنی حق تلفی اِن کی ہورہی ہے وہ طویل داستان ہے۔نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی بے روز گاری سے کون بے خبر ہے۔سب کو معلوم ہے کہ بے روزگاری کی شرح کیا ہے۔نجی اسکولوں کے مالکان کم سے کم تنخواہوں میں اساتذہ رکھتے ہیں اور ان کو گدھوں کی طرح استعمال کرنااپناقانونی حق سمجھتے ہیں۔روزانہ آٹھ آٹھ کلاسز لیتے ہیں، کاپیاں چیک کرنا، امتحان کے پرچے بنانا، پرچوں کو چیک کرنااور دیگر ذمہ داریاں ان کے فرائضوں میں شامل ہے اور تو اوران کو ذاتی کام بھی نمٹانے کو دیئے جاتے ہیں۔ اِن کی تنخواہ حکومت پاکستان کی طرف سے مزدور کی تنخواہ سے بھی کم ہے۔ سرکار نے مزدور کی تنخواہ پہلے ڈھائی ہزار مقرر کی تھی اور اب نئے بجٹ میں کم سے کم تنخواہ ۳ سے ساڑھے چار ہزار کے قریب ہے مگر غیر سرکاری اسکولوں میں ایک ہزار، پندرہ سو، اٹھارہ سو یا اس سے زیادہ نہیں دی جاتی ہے۔ یہ بات صرف ایک دو اسکولوں کی نہیں ہے بلکہ ہر جگہ یہ صورتحال ہے۔ اِن سکولوں کے مالکان سے بات ہوئی تو انھوں نے رونا رویا کہ اساتذہ کی تعلیم کم ہے۔ اس لئے ہم تنخواہیں بھی کم دیتے ہیں۔ تو ایک طرح یہ لوگ دو جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ایک تو محنت کَش کی حق تلفی اور دوسری غیر تعلیم یافتہ اساتذہ رکھنے کاجرم۔۔۔

اس بارے میں حکومت خاموش ہے اور یہ صورتحال سارا سال جاری وساری رہتی ہے۔ جب تک حکومت اِن تعلیمی اداروں کے لئے کوئی لائحہ عمل نہیں بنائے گی اساتذہ کے تعلیمی معیار، تنخواہ کی کم از کم حد اور چھٹیوں کا تعین جیسے مسائل سے نمٹا نہیں جاسکتا ہے جس کے مستقبل میں خطرناک نتائج برآمد ہوں گی۔

گورنمنٹ نے نجی اداروں کے حوالے سے قانون واضح کیا ہے مگر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان حکومت کے بات نہیں مانتے اور وہ حکومت کے احکامات کی دھجیاں بکیھر رہے ہیں۔ اِن اداروں کو بند کیا جائے یا پھر کوئی لائحہ عمل بنایا جائے جس سے اساتذہ کی حق تلفی کا سلسلہ رک جائے اور طلباءوطالبات کا مستقبل بھی محفوظ ہو جائے۔ نجی اداروں کے غریب اساتذہ کو کم تنخواہوں کے ساتھ ساتھ چھٹیاں بھی نہیں دی جاتی ہیں اور اگر کسی وجہ سے چھٹی کر لی جائے تو تنخواہ بھی کاٹ لی جاتی ہے۔ بعض اسکولوں میں تو ایک ہی خاندان کے لوگ کام کر رہے ہیں، کوئی استاد ہے تو کوئی دوسری ڈیوٹی دے رہا ہے۔

ہماری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ نجی سیکٹر کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مزکورہ مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور جہاں جہاں بھی تعلیمی نقائص پائے جارہے ہیںان کو دور کرنے کے لئے دیرپا منصوبہ بندی کی جائے۔

نجی تعلیمی ادارے یا تجارتی مراکز Reviewed by on . کچھ عرصہ پہلے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی یونیورسٹیوں کا ایک جال پھیل رہا ہے جو رجسٹرڈ نہیں ہیں، ایسی یو کچھ عرصہ پہلے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی یونیورسٹیوں کا ایک جال پھیل رہا ہے جو رجسٹرڈ نہیں ہیں، ایسی یو Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top