جمعہ , 21 جولائی 2017

Home » انٹرٹینمنٹ » ٹی وی دیکھنے کے نقصانات بہت

ٹی وی دیکھنے کے نقصانات بہت

سائنسی آلات میں جن دومشہور آلوں نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی وہ ٹی وی اور ٹیلی فون ہیں۔ دراصل یہ دوںوں بہت زیادہ عوام کے ہتھے چڑھے۔ دنیابھر میں شائد ہی کوئی جگہ ہو جہاں ٹی وی اور ٹیلیفون کی رسائی نہ ہوئی ہو۔ ٹی وی کے فوائد بہت زیادہ ہیں، یہ علم اور خبر کا بنیادی ذریعہ بھی ہے، انسانی زندگی کو بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین کرنے میں ٹی وی سب سے نمایاں ہے۔ ٹی وی کی مدد سے دنیا بھر کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے، ملکی خبروں اور پسندیدہ ڈراموں سے تمام عمر کے افراد مستفید ہوتے ہیں۔

مگر آج ہم کوشش کریں گے کہ ٹی وی کے نقصانات گنوائے جائیں۔ درحقیقت کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال اسے برا بنا دیتا ہے۔

ذہنی دبائو اور تنائو یعنی ڈپریشن

ٹی جہاں معلومات کا ذریعہ ہے وہییں یہ دماغی پریشانی اور تفکرات کا ڈبہ بھی ہے۔ مسلسل ٹی وی دیکھنے اور سے شدید دماغی تنائو پیدا ہوتا ہے۔ خاص کر ملکی حالات اور منفی خبروں کی مسلسل اشاعت سے عوام کی دماغی حالت پر برا اثر پڑتا ہے۔

بر وقت کام نہ کرنا،

ٹی وی کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ ہمارا بڑا قیمتی وقت کھا جاتا ہے۔ پاکستانی جوان نسل کے پاس پہلے ہی ہنر اور قابلیت کی شدید کمی محسوس کی جاتی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ بچے چھوٹی عمر سے ہی وقت کا بڑا حصہ ٹی پر گزارتے ہیں۔ ایک تازہ تحقیق کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت روزانہ تین چار گھنٹے ٹی وی دیکھتی ہے۔ گویا جاگتے ہوئے ان کا 20 سے 25 فیصد وقت ٹی وی کھا جاتا ہے۔

بہت سے مرد و زن اہم کاموں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں تاکہ اپنے پسندیدہ پروگرام کو دیکھنے کے لیے وقت نکال سکیں۔ بعدازاں ملتوی شدہ کام ان کے سر پر سوار ہوکر انہیں ذہنی دبائو کا شکار بنا ڈالتا ہے۔ مزید برآں انہیں یہ خیال بھی دق کرتا رہتا ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں اور صحت مند سرگرمیوں کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔اور جب وہ ذہنی تھکن کا شکار ہوجائیں اور مزید کام کرنے کے لیے اپنے اندر توانائی نہ پائیں تو… تو پھر ٹی وی دیکھتے ہیں۔ سو وہ جان لیوا چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ چناں چہ ایک ہفتہ ٹی وی سے دور رہیے پھر دیکھیے کہ آپ کی زندگی میں کیسا انقلاب آتا ہے۔

ٹی وی کے نقصانات۔ بچے ٹی وی چپک جاتے ہیں

ٹی وی کے نقصانات۔ بچے ٹی وی چپک جاتے ہیں

غیر ضروری اور کم معیار کی اشیا خریدنا

ٹی آج کل اشتہارات سے بھر چکا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اشہتارات کے زریعے کوئی بھی نئی پروڈکٹ جلدی بک جاتی ہے۔ عوام اسے خرید لیتے ہیں اور ڈاکٹر سے مشورہ کئے بغیر جلد پر، یا کہیں اور لگاتے ہیں جہاں بعض اوقات بیماری اور جلد کی خرابی کا باعث بنتی ہے۔عوام اشتہار دیکھ کے ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی چیز خریدی جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی اشتہار انسان میں ایسی اشیا خریدنے کی تڑپ بھی پیدا کرتے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سو ٹی وی سے دور رہنے کے باعث نت نئی چیزیں خریدنے کی تمنا بھی دم توڑ جاتی ہے۔

ٹی وی خیالات کا قاتل 

یہ بات عیاں ہے کہ ٹی وی دیکھنے والا عموماً کوئی نئی بات نہیں سیکھتا اور نہ ہی نیا تجربہ پاتا ہے۔نئی معلومات اور تجربات دنیا میں گھومنے پھرنے، لوگوں سے باتیں کرنے اور مختلف کتب و رسائل پڑھنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ جبکہ ٹی وی دیکھنے سے انسان حقیقی دنیا سے کٹ جاتا ہے۔ اس کے خیالات جامد ہو جاتے ہیں ۔نئے اور تازہ خیالات کے لئے ضروری ہے کہ کتاب اور علم سے رشتہ جوڑا جائے۔

ٹی وی دیکھنے کے نقصانات بہت Reviewed by on . سائنسی آلات میں جن دومشہور آلوں نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی وہ ٹی وی اور ٹیلی فون ہیں۔ دراصل یہ دوںوں بہت زیادہ عوام کے ہتھے چڑھے۔ دنیابھر میں شائد ہی کوئی ج سائنسی آلات میں جن دومشہور آلوں نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی وہ ٹی وی اور ٹیلی فون ہیں۔ دراصل یہ دوںوں بہت زیادہ عوام کے ہتھے چڑھے۔ دنیابھر میں شائد ہی کوئی ج Rating:
scroll to top