جمعہ , 21 جولائی 2017

Home » اہم » پانامہ نہر میں دوسوتیس کروز شپ گزریں گے

پانامہ نہر میں دوسوتیس کروز شپ گزریں گے

ہمارا میڈیا فُل آف انٹرٹینمنٹ ہے.مگر کیا یہ انٹرٹینمنٹ آپ کو امتحانات میں کام آئی گی؟ جوں جوں‌انٹرنیٹ کا حصول سستا ہوتا جا رہا ہے ہماری مزید پڑھنے اور سیکھنے کی اسعداد بتدریج کام ہوتی جا رہی ہے. وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم انٹرنیٹ کو مثبت طرف کم اور منفی استعمال زیا دہ کر رہے ہیں.

انٹرنیٹ کو آپ کس مقصد کے لئے اور کتنی دیر کے لئے استعمال کرتے ہیں یہ ایک بہت بڑا عنصر factorہے جو ہماری قابلیتوں‌کو بڑھاتا بھی ہے اور متاثر بھی کرتا ہے. ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹرنیٹ کو مثبت طور پر استعمال کیا جائے.
ایک عام نوجوان اور معلولی تعلیم ہونے کے باوجود اب شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر پڑھنے کے لئے بے شمار مواد موجود ہے جو یقینا دلچسپی سے خالی نہیں. بس تھوری سی ہمت اور خواہش ہونی چاہئیے.

ورلڈ میری ٹائم نیوز ویب سائٹ کے مطابق سال 2016 اور 2017 میں دوسوتیس کروزجہاز پانامہ نہر میں‌سے گزرنے کی توقع کی جا رہی ہے. پانامہ نہر دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی آبی شاہراہ ہے. پانامہ نہرکا منصوبہ امریکہ نے شروع کیا تھا. اس نہر کی کھدائی 1904ء میں شروع ہوئی اور 1914ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی، اس کے لیے ریاست پانامہ سے دائمی کرائے پر زمین لے لی گئی تھی۔

انجینئر کا خاص کمال نہر کھودنے میں نہیں، بلکہ اس کے اندر بند بنانے سے ثابت ہوتا ہے مثلاً جو جہاز اوقیانوس کی طرف سے نہر میں داخل ہوا، اسے بندوں کے پہلے سلسلے میں سطح بحر سے پچاسی فٹ کی بلندی پر اٹھایا جاتا ہے، پھر جہاز ایک اور بند سے گزرتا ہوا بحرالکاہل کی جانب آخری سلسلے کے بند میں عام سطح پر آجاتا ہے اور بے تکلف دوسرے سمندر میں داخل ہوجاتا ہے۔ پورا فاصلہ طے کرنے میں سات آٹھ گھنٹے لگ جاتا ہیں۔

یہ بات یاد رہے کہ نہ سمجھنا چاہیے کہ نہر بنانے کا خیال پہلے پہل جمہوریہ امریکا کو آیا، بلکہ جس زمانے میں ہسپانیہ کی سلطنت عروج پر تھی اور نئی دنیا میں اس کی آبادکاری کا ڈنکا بج رہا تھا، اس زمانے میں بھی یہاں سے ایک نہر بنانے کی تجویز زیر غور آئی تھی، اس وقت تک جمہوریہ امریکا کا وجود تک نہ تھا۔ جب امریکی ریاستوں نے آزادی حاصل کرلی تو انہیں یہ احساس ہوا کہ اگر پانامہ میں سے ایک نہر بنادی جائے ، جس سے جہاز بآسانی گزر سکیں تو اطلانطک سے بحرالکاہل میں جانے کے لیے جہازوں کو جونبی امریکا کا چکر نہ لگانا پڑے گا، اس طرح وقت بھی بچ جائے گا، خرچ بھی کم آئے گا اور تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔نہر کی تعمیر پر کل تینتیس کروڑ چھیاسٹھ لاکھ پچاس ہزار ڈالر خرچ ہوئے اور تقریباً چوبیس کروڑ مکعب گزر زمین کھودی گئی۔
panama-canal

میں اس سے قبل گوگل پبلشر ان پاکستان پر ایک آرٹیکل اسی ویب سائٹ پر لکھ چکا ہوں جسکا مقصد یہ تھا کہ گوگل کی ٹیم نے پاکستانی یونیورسٹیوں کو وزٹ کیا ہے اور سٹوڈنٹس کو اپنی دو سروسز گوگل ایڈسینس اور ایڈ موب سے متعارف کروایا ہے. ان دو سروسز سے وہ پیسے کما سکتے ہیں. مگر سوال یہ کہ سٹوڈنٹس کیسے شروع کریں‌اور کن موضوعات پر لکھنا شروع کریں. مزید پڑھیں

پانامہ نہر میں دوسوتیس کروز شپ گزریں گے Reviewed by on . ہمارا میڈیا فُل آف انٹرٹینمنٹ ہے.مگر کیا یہ انٹرٹینمنٹ آپ کو امتحانات میں کام آئی گی؟ جوں جوں‌انٹرنیٹ کا حصول سستا ہوتا جا رہا ہے ہماری مزید پڑھنے اور سیکھنے کی ہمارا میڈیا فُل آف انٹرٹینمنٹ ہے.مگر کیا یہ انٹرٹینمنٹ آپ کو امتحانات میں کام آئی گی؟ جوں جوں‌انٹرنیٹ کا حصول سستا ہوتا جا رہا ہے ہماری مزید پڑھنے اور سیکھنے کی Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top