جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » تازہ ترین » پاکستانی صنعتوں کو در پیش مسائل اور ان کا حل

پاکستانی صنعتوں کو در پیش مسائل اور ان کا حل

پاکستان میں مختلف ادوار میں معاشی اور سیاسی پالیسی سازوں اور منصوبہ سازی کرنے والوں نے اپنی پالیسیاں سرے سے تشکیل ہی نہیں دیں، جن سے پاکستان معاشی آزادی، اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن ہوسکتا اور امداد و قرض کے بجائے تجارت بالخصوص برآمدات کی راہ اپناتا۔ ڈیمز کی تعمیر کے معاملے میں بھی شدید مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ بعض بیورو کریٹس نے تو اس سلسلے میں پاکستانی مفادات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کیلئے راہ ہموار کی جس نے پاکستان کے حصے کا دریائی پانی روک کر سینکڑوں ڈیمز تعمیر کر ڈالے اور اپنی معاشی ترقی کیلئے مضبوط بنیاد رکھ دی۔ پاکستان انہی ضروریات کیلئے اب بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہے اور ملک میں مسلسل دو سال سے سیلاب کی تباہی و بربادی اور شدید بارشوں کے باوجود ربیع کی فصل کیلئے وافر مقدار میں پانی موجود نہیں ہے۔ بجلی، پانی اور گیس کسی بھی ملک کی معیشت کیلئے جسم میں دوڑتے ہوئے خون کی مانند ہیں جن کے بغیر اب زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور جن کی مسلسل اور بلا رکاوٹ فراہمی معیشت کی ترقی و استحکام کیلئے بے حد ضروری ہے، لیکن پاکستان نے اس معاملے کی طرف آج تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی اور نتیجتاً آج شدید بحران اور مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان کی معاشی نمو گزشتہ دو تین سال کو چھوڑ کر اس سے قبل 2008ءتک اوسطاً 5 فیصد سے زائد رہی، لیکن یہ شرح نمو ”صارفین“ کے خرچ کرنے پر منحصر تھی جس سے معیشت عارضی طور پر ترقی کرتے ہوئے محسوس ہوئی، لیکن پھر معاشی شرح نمو کم ہو کر خطے میں سب سے کم یعنی 2.5 فیصد کی سطح پر آگئی۔
پاکستان کی معاشی نمو اور اقتصادی ترقی کی ٹرین کا انجن صنعت ہے۔ پاکستان میں معیشت زراعت سے خدمات کی طرف منتقلی ہورہی ہے، جبکہ صنعتی ترقی اور نمو مسلسل جمود کا شکار ہے۔ پاکستان کا صنعتی پیداواری شعبہ صرف چند صنعتی اشیاءپر انحصار کررہا ہے جس میں اضافی قدر یعنی ویلیو ایڈیشن بہت کم ہوئی ہے۔ پاکستان کی تجارت کی بنیاد چند موضوعات پر اور انحصار نچلے درجے کی ٹیکنالوجی پر ہے۔ پاکستان کی معیشت کادارومدار ٹیکسٹائل کی صنعت پر ہے، جو پاکستان کی کل برآمدات کا 58 فیصد اور صنعتی ملازمتوں کی فراہمی میں 19 فیصد حصہ دار ہے۔ پاکستان نے اپنی بین الاقوامی تجارت کا زیادہ تر انحصار امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے چند ممالک پر رکھا اور خطے کے دیگر ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ، ایران، چین، روس، وسط ایشیائی ریاستوں سمیت انڈونیشیا، ترکی اور افریقی ممالک کی جانب بھی مناسب توجہ نہیں دی۔ پاکستان میں اتنی بڑی اسٹیل مل ہونے کے باوجود ہم اپنی اسٹیل کی ضروریات پوری نہیں کرسکتے اور اتنا بڑا ادارہ سفارش، رشوت، بد عنوانی اور اقرباءپروری کی بدولت سفید ہاتھی بن چکا ہے۔
پاکستان میں الیکٹرونکس اشیاءکی طلب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، لیکن یہاں مقامی سطح پر الیکٹرونکس اشیاءکی پیداوار پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ پاکستان میں مصنوعات کی ڈیزائننگ کیلئے انسٹیٹیوٹس اور تربیتی اداروں کا فقدان ہے۔ دوسری جانب فارماسیوٹیکل اور بائیو کیمیکل ا یسے شعبے ہیں جن میں پھلنے پھولنے کی بے پناہ استعداد موجود تھی، لیکن ان پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ چھوٹے اور درمیانی درجے کا کاروبار، جسے ایس ایم ای کہا جاتا ہے، ملک میں کاروباری سیٹ اپ کا 90 فیصد، جبکہ غیر زرعی شعبے میں ملازمتیں فراہم کرنے میں اس کا حصہ 80 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار میں اس کا حصہ 40 فیصد ہے، لیکن اس شعبے کو بھی مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ٹیکنیکل ادارے TEVTA اور NAVTEC کے تربیتی مراکز صرف کلاس کی بنیاد پر رہے جبکہ ان کا صنعتوں سے عملی تعلق نہ رہا، جس کی وجہ سے یہ ادارے صنعتوں کی ضروریات کے مطابق مطلوبہ افرادی قوت تیار نہیں کرسکے۔ پاکستان میں تعلیم کے پست معیار، تربیتی اداروں کے فقدان، صنعتوں میں فرسودہ سیٹھ سسٹم اور وسائل و مراعات کی فراہمی کو صرف منظور نظر افراد تک محدود رکھنے کی وجہ سے مزدوروں اور کارکنوں کی پیداواری استعداد کا معیار انتہائی پست ہے۔
ملک میں صنعتوں کی مناسب ترقی کیلئے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس کیلئے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، وزرائ، وفاقی سیکریٹریز اور دیگر عہدیداران کو بھی پابند بنایا جانا ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کروائیں، کیونکہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔
پاکستان میں آبادی کی شرح میں اضافہ تیز رفتار ہے جبکہ معاشی شرح نمو بہت کم ہے پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہر سال تقریباً 20 لاکھ افراد لیبر مارکیٹ میں داخل ہورہے ہیں۔ ان میں تقریباً 4 لاکھ گریجویٹ نوجوان بھی شامل ہیں۔ ان نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے مناسب مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان کی صنعتی بنیاد نہایت مضبوط ہو۔ پاکستان میں اس وقت زراعت کا شعبہ 40 فیصد، خدمات کا شعبہ 33 فیصد جبکہ صنعت کا شعبہ 20 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے۔
چین کا پیداواری شعبہ اس کی مجموعی قومی آمدنی کا 35 فیصد، جنوبی کوریا کا 25 فیصد، انڈونیشیا کا 28 فیصد، ملائیشیا کا 30 فیصد، جبکہ پاکستان کا 19 فیصد ہے۔ پاکستان میں صنعتوں کی بہتر نشوونما اور ترقی کیلئے دور رس پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد بےحد ضروری ہے۔ ملک سے رشوت، بدعنوانی، اقرباءپروری اور وڈیرہ شاہی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہو کر کوشش کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ملک کو سودی معیشت سے پاک کرنے کیلئے علماءکرام کو آگے آکر قوم کی رہنمائی کرنا ہوگی اور اس کیلئے ہر مسجد، ہر مکتب اور مدرسے سے سود کے خلاف آگہی پروگرام منظم طریقے سے شروع کرنا ہوگا۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا جال بنانا ہوگا جس کیلئے لوگوں کو بلا سود قرضوں کا اجراءکرنا ہوگا۔ اسکول، کالج یونیورسٹی اور کاروباری اداروں کو جبری بند کرانا ”قوی جرم“ تصور کیا جانا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا پیمانہ محض ان کے ووٹ سے نہیں بلکہ برسراقتدار عرصہ میں اسکول، کالج، یونیورسٹیاں بنانے، معاشی پالیسیاں تشکیل دینے اور ان پر عملدرآمد کرنے اور رشوت میں کمی لانے جیسے اقدامات کے ذریعے کیا جائے۔ میڈیا اس سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کرسکتا ہے تاکہ پاکستانی قوم کو مایوسیوں سے نکال کر اس میں جذبہ و ہمت پیدا کی جائے اور مسائل و مصائب کا جوان مردی سے مقابلہ کیا جاسکے۔

پاکستانی صنعتوں کو در پیش مسائل اور ان کا حل Reviewed by on . پاکستان میں مختلف ادوار میں معاشی اور سیاسی پالیسی سازوں اور منصوبہ سازی کرنے والوں نے اپنی پالیسیاں سرے سے تشکیل ہی نہیں دیں، جن سے پاکستان معاشی آزادی، اقتصاد پاکستان میں مختلف ادوار میں معاشی اور سیاسی پالیسی سازوں اور منصوبہ سازی کرنے والوں نے اپنی پالیسیاں سرے سے تشکیل ہی نہیں دیں، جن سے پاکستان معاشی آزادی، اقتصاد Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top