ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » انٹرٹینمنٹ » پاکستانی ٹی وی ڈرامے یا ریٹنگز میں برتری کی دوڑ:

پاکستانی ٹی وی ڈرامے یا ریٹنگز میں برتری کی دوڑ:

جب بات آتی ہے تفریح کی تو موجودہ دور میں ٹیلیویژن عام افراد کی انٹرٹینمنٹ کا سب سے بڑا ذریعہ مانا جاسکتا ہے اور اس شعبے میں سب سے زیادہ اہمیت ڈراموں کے علاوہ کس کی ہو سکتی ہے جس میں معاشرے کے مختلف رنگوں کی کہانیاں لوگوں کو اپنے سامنے باندھے رکھتی ہیں۔اور اس معاملے میں پاکستان اپنے پڑوسی ممالک جیسے ہندوستان سے بہت آگے ہے یہاں تک کہ اس وقت بھی ایک انڈین چینل پر نئی نسل کے پاکستانی ڈراموں جیسے زندگی گلزار ہے، مات یا دیگر نے دھوم مچا کر رکھ دی ہے اور پاکستانی اداکار وہاں سپر اسٹار بن کر ابھرے ہیں۔پاکستان میں مقبولیت کے لحاظ سے نیوز چینل پہلی پوزیشن پر ہیں اور ان میں بعد تفریحی چینلوں کا نمبر آتا ہے۔ن تفریحی چینلوں پر متعدد ڈرامے پیش کیے جارہے ہیں۔ اِن ڈراموں میں جہاں بڑے پیمانے پر عورتوں کے لیے مردوں کےمعاشرے کے طے کردہ روایتی کرداروں کی توثیق کی جارہی ہے، وہیں ریپ جیسے سماجی مسئلے کو بھی موضوع بنایا جا رہا ہے جسے ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔حال ہی میں نجی ٹی وی چینل ہم ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ایک ڈرامہ سیریل ’سنگت’ میں دکھایاگیا کہ گھرمیں ڈاکے کے دوران ریپ کا شکار ہونے والی ایک شادی شدہ عورت بعد میں ریپ کرنے والےکی طرف مائل ہو رہی ہے۔پاکستانی ڈراموں میں عموماً مرکزی کردار میں عورتوں کو مردوں کی بےوفائی پر روتے دھوتےاور انھیں حاصل کرنے کے لیے لڑتے جھگڑتے دھمکیاں دیتےدکھایا جاتا ہے جبکہ مردوں کودوسری عورت سےمحبت میں گرفتار یا دوسری شادی کی دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔زبانی تشدد، ساس بہو کی منصوبہ سازیاں، طنزاورطعنےتشنوں سمیت جینز پہننے والی اور ملازمت پیشہ بااختیار خواتین کی منفی کرداروں میں عکاسی عام ہے۔ بیشترڈراما نویسوں کااس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے کردار حقیقی ہیں اوروہ وہی لکھتے ہیں جو ان کے اردگرد ہوتا ہے۔
میڈیا میں خواتین کےحقوق اور انھیں بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’عکس‘ کی سربراہ تسنیم احمر کہتی ہیں کہ ’معاشرے میں کوئی چیز اس حد تک نہیں ہو رہی کہ آپ کا اسےٹی وی پر لانا ضروری ہے کیونکہ اس کےعلاوہ بھی بے شمار چیزیں ہیں جومعاشرے میں ہوتی ہیں اور ہمارے ڈرامے پیش نہیں کرتے۔ مثال کے طورپران لڑکیوں کے مسائل جو بہت مشکل سےگھروں سےنکل کرکام یا پڑھائی کرتی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ’ان ڈراموں میں پہلاجملہ تویہ ہوتا ہے کہ بیٹی کا بوجھ اتارنا ہے یا ہمیں یہ ذمہ داری نبھانی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ لڑکی کا ہونا ایک عذاب ہے۔ اس کے علاوہ ڈراموں سے تاثر یہ آتاہے کہ خواتین سوائے لڑائی جھگڑے اور طعنےتشنے کے کچھ نہیں کر رہیں۔‘ڈراما نویس نورالہدیٰ شاہ کا موقف ہے کہ مظلوم اور بیچاری عورت والے کرداروں کی سب سے زیادہ مانگ ہے کیونکہ وہی مقبول ہوتے ہیں اوراُنھی کی ریٹنگز آتی ہیں۔
پاکستانی ڈراموں میں زیرِ بحث سنجیدہ موضوعات جیسےکہ طلاق، حلالہ، ریپ وغیرہ پر کافی کام ہو رہا ہے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ یہ ڈرامےمقبول ہونے کے باوجود معاشرے کو کوئی نیا پہلو، کوئی نئی سمت دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثالیں سنگت اور چُپ رہو جیسےڈرامے ہیں جس میں ریپ کی شکارخواتین بے چارگی کی تصویر بنی اپنی قسمت کو کوستی مرد کاآسرا ڈھونڈتی نظر آتی ہیں جبکہ اردگرد کے کرداروں میں خواتین اس مسئلے کی پردہ کشی کرتی رہتی ہیں۔
ایسے ڈراموں پرتنقید کرتے ہوئے تسنیم احمر نے کہا ’یہ رائٹرز وہی سب خواتین ہیں جو ڈائجسٹوں میں لکھتی ہیں۔اگر اپ انھیں اٹھا کر بڑی سکرین کےڈرامےلکھنےکو کہہ دیں گے تو پھر ڈائیلاگ یہی ہوں گے نا کہ تم نے یہ کیسا لباس پہنا ہے مردوں کو دعوت دینے والا۔‘ان ڈراموں کے برعکس بچوں سے جنسی زیادتی پرمبنی ڈرامہ سیریل ’اُڈاری ’میں قانونی مدد حاصل کرنے کا واضح پیغام دیاگیا۔یہ ڈرامہ ہم ٹی وی سے نشر کیا جا رہا ہے۔ اس پر پیمرا کی جانب سےایک بار پابندی بھی لگی لیکن عوام نے اسے بے حد پسند کیا۔اڈاری میں دومسائل اجاگر کیےگئے ایک گانے بجانے والوں کے ساتھ معاشرے میں متنازع سلوک اوردوسرا بچوں سے جنسی زیادتی۔اس ڈرامےکے بارے میں رائےعامہ یہی ہے کہ تقریباً دونوں ہی موضوعات سےانصاف کیاگیا۔ اُڈاری کےمرکزی کرداروں میں ایک کردارمشہور اداکارہ بشریٰ انصاری نےادا کیا۔بشریٰ انصاری نے بتایاکہ ’تقریباً ٨٠ فیصد لوگوں نےکہا کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ ہماری فیملی میں بھی ایسا ہوا۔ لوگ بولنے بھی لگےجو کہ چپ ہوگئے تھے بولتے نہیں تھے۔ ماؤں کو بھی یہ آگیا ہے کہ اپنے بچوں کو کیسے تحفظ دیا جا سکتا ہے۔‘ان تمام حقائق کو جاننے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ تفریحی چینلز ریٹنگز کی دوڈ میں برتری لینے کے بجائے عوام کو برتر موضوعات پر مبنی ڈرامے دیکھائے جو کسی غلط تعاثر پر مبنی نہ ہوں۔

پاکستانی ٹی وی ڈرامے یا ریٹنگز میں برتری کی دوڑ: Reviewed by on . جب بات آتی ہے تفریح کی تو موجودہ دور میں ٹیلیویژن عام افراد کی انٹرٹینمنٹ کا سب سے بڑا ذریعہ مانا جاسکتا ہے اور اس شعبے میں سب سے زیادہ اہمیت ڈراموں کے علاوہ کس جب بات آتی ہے تفریح کی تو موجودہ دور میں ٹیلیویژن عام افراد کی انٹرٹینمنٹ کا سب سے بڑا ذریعہ مانا جاسکتا ہے اور اس شعبے میں سب سے زیادہ اہمیت ڈراموں کے علاوہ کس Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top