جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » تحقیق و جستجو » پاکستان دنیا کے اآلودہ ترین ممالک میں شامل

پاکستان دنیا کے اآلودہ ترین ممالک میں شامل

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے اپنی نوعیت کے پہلے عالمگیر سروے سے پتہ چلا ہے کہ ایران، پاکستان، بھارت اور منگولیا کے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہر ہیں جبکہ امریکہ اور کینیڈا میں واقع شہروں کی فضا سب سے زیادہ صاف ستھری ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی اس تحقیق میں ایران کے جنوب مغربی شہر اہواز کو فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق اِس ایرانی شہر کی ہوا میں دَس مائیکرومیٹر سے بھی کم سائز کے ذرات کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی۔
اِس سروے کے نتائج کے اجراءکا مقصد فضائی آلودگی میں کمی کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق اِسی آلودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال ایک اعشاریہ تین چار ملین انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ فضا میں آلودگی کے تناسب کو کم کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے فوائد بہت جلد سامنے آ سکتے ہیں کیونکہ فضا جتنی صاف ستھری ہوتی چلی جائے گی، صحت اور علاج پر اٹھنے والے اخراجات بھی اتنے ہی کم ہوتے چلے جائیں گے۔ فضا کو آلودہ کرنے میں موٹر گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی اہم کردار ادا کرتا ہےفضا کو آلودہ کرنے میں موٹر گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے

اس سروے میں گزشتہ کئی برسوں کے اعداد و شمار کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس سروے کے تحت دنیا کے تقریباً گیارہ سو شہروں میں دَس مائیکرو میٹر سے کم سائز کہلانے والے ذرات کے تناسب کو ماپا گیا تھا۔ یہ ذرات انسانوں میں سانس لینے کے حوالے سے سنگین مسائل کا باعث بن سکتے ہیں، اسی لیے عالمی ادارہ صحت نے ان ذرات کی زیادہ سے زیادہ حد بیس مائیکروگرام تجویز کی ہے۔ یہ ذرات زیادہ تر سلفر ڈائی آکسائیڈز اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈز ہوتے ہیں، جو پاور پلانٹس، موٹر گاڑیوں یا پھر کارخانوں وغیرہ سے خارج ہوتے ہیں۔

ایرانی شہر اہواز میں ان ذرات کی مقدار 372 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ریکارڈ کی گئی۔ ایک اعشاریہ تین ملین آبادی کے حامل اس صحرائی شہر میں فضائی آلودگی کی بڑی وجہ بھاری صنعت کی موجودگی اور موٹر گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ناقص ایندھن کو قرار دیا گیا ہے۔

منگولیا کے صدر مقام الان باتور میں اِن ذرات کی مقدار 279 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر تھی۔ اِس کے بعد ایران کا مغربی شہر سننداج آتا ہے، جہاں ان ذرات کی مقدار 254 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ریکارڈ کی گئی۔

بجلی گھروں سے خارج ہونے والے ضرر رساں ذرات سانس کی تکالیف کا باعث بنتے ہیںبجلی گھروں سے خارج ہونے والے ضرر رساں ذرات سانس کی تکالیف کا باعث بنتے ہیں۔آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سب سے اوپر پاکستان اور بھارت کے شہروں کوئٹہ اور کان پور کے بھی نام ہیں اور بوتسوانہ کے دارالحکومت گابورونے کا بھی۔

اٹھارہ ملین کی آبادی والے پاکستانی شہر کراچی میں بھی فیکٹریوں، کارخانوں اور موٹر گاڑیوں سے نکلنے والے کثیف دھوئیں نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں تاہم حکومتی سطح پر اس آلودگی کو روکنے کے لیے کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے برعکس بھارت کے بڑے شہروں نئی دہلی، ممبئی یا پھر کولکتہ میں شہروں کی حدود کے اندر نئے بجلی گھروں کی تعمیر نہ صرف ممنوع قرار دی جا چکی ہے بلکہ پہلے سے موجود پاور پلانٹس کو بند یا کسی دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کاشتکاری کے لئے استعمال ہونے والے پانی میں زہریلے اثرات پائے جاتے ہیں جس سے شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا کی ڈاکٹر کوثر یاسمین نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سبزیوں کی کاشت کے لئے آلودہ پانی استعمال کیا جارہا ہے۔ سبزیوں کے تجزیہ کرنے سے پتا چلا کہ ان میں زہریلی دھاتوں کے اثرات موجود ہیں، جس سے شہریوں کے کئی موذی اَمراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔

ملک بھر میں صنعتی فضلہ کسی صفائی کے بغیر دریاوں کے پانی میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس سے دریاوں کا پانی آلودہ ہورہا ہے۔ اس سے نہ صرف آبی حیات کو خطرہ ہے بلکہ فصلیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ سبزیوں کی کاشت میں استعمال ہونےوالے پانی کے نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ اس میں کیڈمیئم، کاپر، کرومیئم، آئرن زنک، لیڈ اور میگانیز سمیت دیگر زہریلی دھاتیں بڑی مقدار میں موجود ہیں۔

ان دھاتوں سے گردوں کے امراض، ہڈیوں کی کمزوری، سرطان، ہیضہ، اسہال، پیٹ کے امراض، وزن کی کمی اور ہائی بلڈ پریشر جیسے طبی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ زنک اور لیڈ کی زائد مقدار سے دماغی امراض اور حمل کے ضائع ہونے جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ملک بھر میں صنعتی فضلہ کسی صفائی کے بغیر دریاوں کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے اور یہی پانی فصلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہےملک بھر میں صنعتی فضلہ کسی صفائی کے بغیر دریاوں کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے اور یہی پانی فصلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

ڈاکٹر کوثر یاسمین نے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آلودہ غذا، تمباکو نوشی کے بعد سرطان کی دوسری بڑی وجہ بن رہی ہے۔ اور اگر صاف ستھری سبزیوں کا استعمال کیا جائے تو سرطان کے واقعات ایک تہائی کم ہوسکتے ہیں۔ سبزیوں کی کاشت میں استعمال ہونے والے پانی کے علاوہ گھروں میں فراہم کیا جانے والا بھی پانی بھی بڑی حد تک آلودہ ہے، اور یہ بھی کافی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ اس صورتحال نے بھی شہریوں کی زندگی کو داو¿ پر لگا دیا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی دارالحکومت کراچی میں یہ صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرکے جب ان کا تجزیہ کیا گیا تو ان میں کئی دھاتیں عالمی ادارہ صحت کے مقررہ کردہ معیار سے زائد پائی گئیں۔

پاکستان دنیا کے اآلودہ ترین ممالک میں شامل Reviewed by on . عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے اپنی نوعیت کے پہلے عالمگیر سروے سے پتہ چلا ہے کہ ایران، پاکستان، بھارت اور منگولیا کے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہر ہیں جبکہ امریکہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے اپنی نوعیت کے پہلے عالمگیر سروے سے پتہ چلا ہے کہ ایران، پاکستان، بھارت اور منگولیا کے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہر ہیں جبکہ امریکہ Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top