ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » اہم » پاکستان میں مردم شماری کا انعقاد مشکوک:

پاکستان میں مردم شماری کا انعقاد مشکوک:

١٩٩٨ کی مردم شماری کے بعد ١٨ برس میں اس کا انعقاد نا ہونا باعث تفتیش کی بات ہے۔

پاکستان میں مردم شماری کا انعقاد مشکوک:
پاکستان میں ٢٠١٦ میں ہونے والی مردم شماری کا انعقاد ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ ١٩٩٨ کی مردم شماری کے بعد ١٨ برس میں اس کا انعقاد نا ہونا باعث تفتیش کی بات ہے۔ گرشتہ جن برسوں اقتدار میں موجود ہر حکومت مردم شماری کے انعقاد کا وعدے کو کرتی رہی ہے مگر وعدے وفا نہ ہو سکے۔ موجودہ حکومت جب عوام کی اکثریت سے اقتدار میں آئی تو وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ دو ہزار سولہ کا سال پاکستان میں مردم شماری کا سال کہلائے گا۔ مردم شماری کے انعقاد کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس میں مردم شماری کے انتظامی امور زیر غور تھے کہ حکومت نے مردم شماری ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا جس سے صوبوں میں تفتیش کی لہر دوذ گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج جس کے زیر نگرانی مردم شماری کا انعقاد ہوتا ہے وہ دہشگردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور اس صورتحال میں مردم شماری کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا۔ اس حکومتی موقف کے بعد عوام میں بھی غم وغضہ پایا جاتا جاتا ہے عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ مردم شماری کا انعقاد فوری اور ہنگامی بنیادوں پر کروایا جائے۔

پاکستان میں مردم شماری کا انعقاد مشکوک: Reviewed by on . پاکستان میں مردم شماری کا انعقاد مشکوک: پاکستان میں ٢٠١٦ میں ہونے والی مردم شماری کا انعقاد ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ ١٩٩٨ کی مردم شماری کے بعد ١٨ برس م پاکستان میں مردم شماری کا انعقاد مشکوک: پاکستان میں ٢٠١٦ میں ہونے والی مردم شماری کا انعقاد ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ ١٩٩٨ کی مردم شماری کے بعد ١٨ برس م Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top