جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » پاکستان کا تعلیمی ورثہ

پاکستان کا تعلیمی ورثہ

قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا تعلیمی ورثے میں چند ہی ادارے آ سکے تھے۔ حکومت کے استحکام اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی فنی، سائنسی اور تحقیقی اداروں میں اضافہ ہوتا گیا۔ تقسیم پاکستان اور اس کے بعد جود میں آنے والے چند اداروں کا ذکر ذیل میں کر رہی ہوں:۔

لاہور کا اورنٹیل کولج تقسیم ہندوستان کے نتیجے میں پاکستان کے حصے میں آیا۔ یہ ادارہ 1872ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد انجمن پنجاب نے رکھی تھی‘ رفتہ رفتہ یہ ایک اعلی تحقیق کا بلند پایہ ادارہ بن گیا۔ آج یہ پاکستان کا نمایاں تحقیقی ادارہ ہے۔ اس ادارے کی بدولت پاکستان میں تحقیقی سرگرمیوں کو کافی فروغ حاصل ہوا ہے۔

اورنٹیل کولج کے بعد 1974ء میں کراچی میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو پاکستان کا ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے نے ملک میں علم ‘اشاعت اور اعلی تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کو مزید چا چاند لگا دیئے۔ قیام پاکستان کے وقت ملک تعلیم و تحقیق کے شعبے میں بہت پیچھے تھا اور ملک میں تعلیمی فروغ کی سخت ضرورت تھی۔ اس اہم مسئلے پر غور کرتے ہوئے 1950ء میں لاہور میں ادارہ ثقافت اسلامیہ قائم کیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں کے روشن ماضی کو اجاگر کرنا اور تعلیمی کو فروغ دینا تھا۔ ملک کے مستقبل کی بنیادیں سائنسی جدید تحقیق پر استوار کرنے اور اسلامی ثقافت کو زندہ جاویدکرنے کے لئے اس ادارے نے نہایت خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ اس ادارے کے ذریعے ہر موضوغ پر تحقیقی کا کام ہوا اور بہت سی قیمتی کتابیں منظر عام پر آئیں۔ 1950ء میں ہی سائنسی و ثقافتی تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لئے دارلحکومت کراچی میں پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی قائم کی گئی۔ اس ادارے نے اپنے قیام کے بعد تحقیق کے شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کے قیام کے بعد اسی سال لاہور کے مقام پر مجلس ترقی ادب کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ابتدائی طور پر اس مجلس کا کام ترجمہ کاتھا لیکن بعد میں اس کا دائرہ عملی و ادبی‘ تاریخی اور اہم شخصیات پر تحقیق کتابیں شائع کرنے تک پھیل گیا۔ اس ادارے کے ذریعے ایک مجلہ بھی نکالا گیا تاکہ لوگوں کی ذہنی اور فکری تربیت بھی ہو سکے اور تحقیقی کاموں میں سہولت ہوسکے۔ 1950ء میں ہی لاہور میں بزم اقبال کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جس کا مقصد شاعر مشرق علامہ اقبال کے فلسفہ سیاست‘ تعلیم و مذہب و ملت پر تحقیقی کام کو مزید فروغ دینا تھا۔ اس ادارے کے قیام کے ذریعے علامہ اقبال کی شاعری اور ان کے حالات زندگی کو مز نظر رکھتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں اور اردو زبان کے فروغ کو اجاگر کرنا تھا۔انیس سو باون میں جب اسلامی موضوعات پر تحقیق کی ضرورت محسوس کی گئی توایک ادارہ تحقیقات اسلامی کراچی میں قائم کیا گیا، بعد میں اسے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد اسلامی فکر اور تحقیق کو فروغ دینا اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو سائنسی انداز میں واضح کرنا ہے۔ اس ادارے نے اردو ‘انگریزی اور عربی زبان میں قابل ذکر تحقیقی کتابیں شائع کیں اور علمی اور تحقیقی وسائل بھی منظر عام پر آئے۔ اردو کے علاوہ سندھی، پنجابی، پشتو اور بلوچی زبانوں میں بھی تحقیقاتی مراکز قائم ہیں۔ صوبائی زبانوں کی اعلی تعلیم جامعات کی سطح پر بھی فراہم کی جارہی ہے۔آج کل پاکستان میں۰۵سے زیادہ تحقیقی مراکزنئی موضوعات‘ایجادات تخلیق و تحقیق کے لئے سرگرم علم ہیں ان میں پاکستان کونسل آف سائٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کراچی، پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کراچی، پاکستان کونسل آف ریسرچ واٹر ریسورسز اسلام آباد وغیرہ۔۔۔ ان تحقیقی اداروں کے ماتحت کئی ادارے مختلف شہروں اور علاقوں میں بھی کام کر رہے ہیں ان کے علاوہ بعض ادارے نجی سطح پر بھی تعلیمی تحقیق میں اپنا سرگرم کردار اداکر رہے ہیں جس میں سر سید کالج اوراردو یونیورسٹی کے تحقیق و اشاعت علم بھی شامل ہیں۔ پاک آرگنائزیشن آف ورکرز ان ایجوکیشنل ریسرچ کاادارہ بھی کافی عرصے سے تعلیمی تحقیق کے سلسلے میں مختلف کورسسز کر رہا ہے اور تعلیمی تحقیق بھی انجام دی جا رہی ہے۔

پاکستان کا تعلیمی ورثہ Reviewed by on . قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا تعلیمی ورثے میں چند ہی ادارے آ سکے تھے۔ حکومت کے استحکام اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی فنی، سائنسی اور تحقیقی اداروں میں قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا تعلیمی ورثے میں چند ہی ادارے آ سکے تھے۔ حکومت کے استحکام اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی فنی، سائنسی اور تحقیقی اداروں میں Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top