ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تازہ ترین » پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید خطرے کی لپیٹ میں

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید خطرے کی لپیٹ میں

کراچی جیسے بڑے شہرکو پانی کی قلت جیسے شدید مسئلے کا سامنا ہے ، اس کا
حل کنویں کھود کے نکال لیا گیا ہے-لیکن معدنیات کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب یہ پانی انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے .
بورنگ سے نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے بلکہ یہ عمل زمین کو کھوکھلا کر رہا ہے.جو کسی بھی وقت (زمین دھنسنے) کا سبب بن سکتا ہے.
جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ کراچی کی زیرزمین چٹانیں چونے کے پتھر، ریت اور چکنی مٹی پر مشتمل ہیں۔
پاکستان کے دوسرے شہروں کی بنسبت کراچی میں کنوؤں کی کھدائی کی شرح بہت زیادہ ہے.
سنک ہول ایک ارضیاتی عمل ہے سنک ہول بننے کا عمل سطح زمین پر ظاہر ہونے سے پہلے شروع ہوجاتا ہے سنک ہول کے بننے کا زیادہ تر عمل زیرزمین موجود ریت اور چٹانوں میں ہونے والے تغیرات کا نتیجہ ہے،زیرآب پانی کی کم سطح، بارشوں میں کمی یا مختصر مدت کے لیے بارش کا بہت زیادہ ہونا سنک ہول بننے کی قدرتی وجوہات ہیں۔ چونے کے پتھروں کے گھلنے سے پانی تیزابی ہو جاتا ہے .اور یہ پانی چٹانوں میں شگاف بڑھنے کا سبب بنتا ہے،
قدرتی قحط سالی اور اس کے بعد کی شدید بارش او زیرآب پا نی زیادہ نکالنے سے بھی یہ شگاف بڑھ رہے ہیں
142
بڑی وجہ بڑی عمارتیں بھٰی ہیں جو ساحل پر بنی ہیں کیونکہ یہ ریت کو جلدی خشک کر کہ تعمیرات کی گئ ہیں ریت پوری طرح کمپریس نہیں ہوپاتی اس میں چھوٹے چھوٹے خلا بن جاتے ییں جو کراچی کو سنک ہول کے خطرے میں لے جا رہے ہیں
ترقی یافتہ ممالک میں کسی بھی مسلئے سے بچنے کے لیے قوانین بنے ہیں
ناسا کے نئے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق زیر زمین ایکوافرز میں پانی کی مقدار خطرناک حد تک ختم ہوچکی ہے۔
گنجان آبادی والے خطوں میں جیسے انڈیا، پاکستان اور شمالی افریقا میں ایکوافرز کی صورت حال زیادہ خراب ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ لانڈھی، کورنگی اور ڈیفنس میں آنے والے معمولی زلزلے بھی ایکوافرز میں پانی کی کمی سے تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔
152
آنے والے سالوں میں پاکستان میں قدرتی آفات میں اضافہ کےساتھ خوراک، توانائی اور پانی کا شدید بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے پاکستان میں دوسرے ملکوں کی بنسبت اوسط درجہ حرارت بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے،
ہول زمین کی طرح سمندر میں بھی بنتے ہیں۔ زمین پر بننے والے سنک ہول نہ صرف اُس علاقے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ زیرزمین پانی کا رُخ بھی تبدیل کردیتے ہیں۔
گنجان آباد علاقوں میں بننے والے خلاؤں سے جانی اور مالی نقصان ہوسکتا اور کچھ خلاٰٰء سیوریج لائن اور زیرآب برساتی نالوں کے رسنے سے بھی بنتے ہیں ایسے خلاٰ ٰء سے نقصان بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، زمین کے اندر زہریلے کیمیکل سطح زمین پر آکر پینے کے پانی کوبھی خراب کرسکتے ہیں۔
اس رپورٹ کے سلسلے میں واٹر بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر، ٹیکنیکل ڈائریکٹر سے رابظہ کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی کاروائی سامنے نہیں آ سکی ہے-

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید خطرے کی لپیٹ میں Reviewed by on . کراچی جیسے بڑے شہرکو پانی کی قلت جیسے شدید مسئلے کا سامنا ہے ، اس کا حل کنویں کھود کے نکال لیا گیا ہے-لیکن معدنیات کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب یہ پانی انسانی صحت کراچی جیسے بڑے شہرکو پانی کی قلت جیسے شدید مسئلے کا سامنا ہے ، اس کا حل کنویں کھود کے نکال لیا گیا ہے-لیکن معدنیات کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب یہ پانی انسانی صحت Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top