ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » جامعات » پاکستان کی قدیم ترین پنجاب پبلک لائبریری

پاکستان کی قدیم ترین پنجاب پبلک لائبریری

علم کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے کہا گیا’’علم ہی اصل طاقت ہے‘‘ اور یہ کہنا ہے دنیا بھر کے نامور دانشور، فلاسفر اور سائنسدانوں کا۔تمام مذاہب اور پروکار، دانشور اور فسلفی سب نے مشترکہ اور متفقہ طور پر اس حقیقت کو بخوبی تسلیم کیا ہے کہ “Knowledge is Power” یعنی ’’علم طاقت ہے‘‘ اور علم بے پناہ وسعتوں میں پھیلا ایک ایسا سمندر ہے جس کو حاصل کرنے میں انسان زندگی کا بیشتر قیمتی حصہ صرف کردیتا ہے۔ علم کا حصول صرف اور صرف بنیادی اکیڈمک تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلیم کے بعد ہی اس کا درست سمت میں آغاز ہوتا ہے۔

علم میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ نصابی اور غیر نصابی کتب کا بغور مطالعہ ہی ہے۔ مطالعے کی عادت کسی شخص کی ذہنی نشوونماکرتی ہے اور اس کی زندگی میں ہونے والے مشاہدات اور تجربات میں پنہاں ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز اسی مشہور عالمی قول ’’علم طاقت ہے‘‘ میں مضمر ہے۔ جدید دور سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت انٹرنیٹ متعارف ہوا، جس نے دنیا کو گلوبل ولیج کی جدید شکل دیتے ہوئے ہر قسم کا کم سے کم وقت میں وافر مقدار میں معلوماتی مواد فراہم کیا۔

پنجاب پبلک لائبریری

پنجاب پبلک لائبریری، پاکستان کی حجم میں سب سے بڑی اور قدیم لائبریری ہہے۔ یہ لائبریری لاہور میں واقع ہے جو کہ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ لاہور کے مال روڈ پر واقع اس لائبریری کے اطراف میں قومی عجائب گھر، نیشنل کالج آف آرٹس (NCA)، پنجاب یونیورسٹی کا اولڈ کیمپس، گورنمنٹ کالج، ناصر باغ، پرانا ٹولنٹن مارکیٹ کی عمارت، مشہور انارکلی بازار، ایم اے او کالج اور ٹائون ہال جیسے اہم مقامات واقع ہیں۔

اس لائبریری کی تاریخ مغلیہ خاندان کے بادشاہ شاہجہان تک جاتی ہے۔ یہ لائبریری مغلیہ طرز کی تعمیر شدہ عمارت ’’بارہ دری گورنر وزیر خان‘‘ کے نام سے موسوم تھی جو اس وقت کے مغل شنہشاہ شاہجہان اور پنجاب حکومت کے باہمی تعاون سے 1884 میں قائم ہوئی تھی۔

 پنجاب پبلک لائبریری علم کے پیاسوں کے لئے ایک عظیم خزانہ ہے۔ تحقیق و تخلیق کے اس عظیم الشان مطالعاتی مرکز میں،سائنس، معاشرت، معاشیات، تاریخ،مذہب غرض مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کتب کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ بے شمارہفتہ وار اور ماہانہ میگزین، اخبارات، رپورٹس اور دستی تحریروں کے تقریباً 1893 مجموعات، 25 اقسام کے جرنلز کا وافر ذخیرہ مطالعے کے لیے ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔

علم کے شہر لاہور میں موجود علم کے قصر نے اپنی انتظامی خدمات کی وسعتوں کا دائرہ کار 16 سیکشنز میں تقسیم کیا ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔ ایکوزیشن، ٹیکنیکل، سرکولیشن، ریفرنس، بیت القرآن، چلڈرن، اورینٹل، کمپیوٹر اور ای لائبریری، ایوا(AVA)، بائنڈری (Bindery)، اکائونٹ، ہندی/ گرومکھی/ سنسکرت، ریکارڈ، گزٹ/ رپورٹ، پرانے اخبارات/ میگزین بریلی (Braille) اور اس کے علاوہ بک ریزرویشن، فوٹو کاپی، لائبریری کیٹلاگ، ریڈر/ ریفرنس سروسز لائبریری کی جانب سے بلاتفریق فراہمی ہے۔

کلچرل سرگرمیوں کا انعقاد لائبریری انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ HEC کی ڈیجیٹل لائبریری پروگرام کے ذریعے لائبریری کو ڈیجیٹل رسائی کی سہولت بھی حاصل ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبائی حکومت اخراجات کی مد میں 43 ملین سالانہ گرانٹ ادا کرتی ہے۔ ممبر شپ کی مد میں وصول ہونے والی قلیل رقم بھی لائبریری کی آمدنی میں معمولی اضافے کا سبب ہے۔ ممبر شپ کی چار اقسام ہیں، 1۔ جنرل، 2۔ طلباء و طالبات، (3) چائلڈ، (4) لائف ممبرشپ۔ مبلغ 5000 روپے لائف ممبر شپ کی مد میں ایک عطیہ ہے۔ کتابوں، رسائل یا کسی قسم کے معلوماتی مواد کا رضاکارانہ طور پر لائبریری کو عطیہ قابل قبول ہے۔

لائبریری کی روح رواں اور چیف محترمہ عذرا عثمان نے اپنے اس قوی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ تمام اخبارات کے کالم نویسوں کی تحریروں کے مجموعے سی ڈی کی شکل میں ایک علیحدہ یونٹس کے قیام کے ساتھ ساتھ کالم نویسوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور تبادلہ خیال کے لیے لائبریری میں سالانہ پروگرام کے انعقاد کی بھی خواہاں ہیں۔

پنجاب پبلک لائبریری لاہور

پنجاب پبلک لائبریری لاہور

پاکستان کی قدیم ترین پنجاب پبلک لائبریری Reviewed by on . علم کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے کہا گیا’’علم ہی اصل طاقت ہے‘‘ اور یہ کہنا ہے دنیا بھر کے نامور دانشور، فلاسفر اور سائنسدانوں کا۔تمام مذاہب اور پروکار، دا علم کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے کہا گیا’’علم ہی اصل طاقت ہے‘‘ اور یہ کہنا ہے دنیا بھر کے نامور دانشور، فلاسفر اور سائنسدانوں کا۔تمام مذاہب اور پروکار، دا Rating:
scroll to top