بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » پاکستان کے تعلیمی اداروں پروان چڑتا ”شورٹ کٹ کلچر“

پاکستان کے تعلیمی اداروں پروان چڑتا ”شورٹ کٹ کلچر“

موجودہ دور سائنس اور ٹیکنولوجی کا دور ہے۔ انسان نے اپنی سہولت کے پسند طبیعت کی تسکین کیلئے مشینری اور آلات کے انبار لگا دیئے ہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کی نِت نئی راہیں متعارف کروائی جارہی ہیں۔ دنیا اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود سمٹ کر ایک عالمی گائوں بن چکی ہے، لیکن سائنسی ترقی نے معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ منفی اثرات بھی چھوڑے ہیں۔ لوگوں کا محنت اور جفاکشی سے عاری ہونا اور سہولت کا دلدادہ ہونا انہی منفی اثرات کا شاخسانہ ہے۔

عصرِ حاضر کی برق رفتاری کے پیشِ نظر طلباءبھی سہولت پسندی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ”شارٹ کٹ کلچر“ پروان چڑھ رہا ہے۔ مطالعے کے ذوق میں نمایاں کمی آئی ہے۔ غیر نصابی کتب کے مطالعے کی نوبت آنا تو درکنار درسی اور نصابی کتب بھی قاری کی عدم توجہی پر نوحہ کناں ہیں۔ انہیں کوئی پڑھنے والا میسّر نہیں اور جو ہیں وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں حقیقی خواندہ افراد کم اور ڈگری بردار بے شمار ہیں۔ ان حالات میں ملک کی ترقی کے محض خواب ہی دیکھے جاسکتے ہیں، ان کا شرمندہ تعبیر ہونا بظاہر مشکل ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہے لوگوں کے جذبات اور ہر نوع کی خواہشات کی تسکین کا سامان مہیا کرکے زیادہ سے زیادہ منافع جمع کیا جائے چنانچہ طلباءکی سہولت کے پیشِ نظر بعض پبلشرز مختصر کتابچے چھاپتے ہیں اور یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ ان کتابچوں میں سے بعض پانچ دس سالہ امتحانی پرچہ جات کے حل پر مشتمل ہوتے ہیں اور بعض نوٹس ہیں جن میں نصابی کتابوں سے چندہ اقتباسات (امتحانی مقامات) جمع کئے جاتے ہیں۔ طلباءان کتابچوں کو ہاتھوں ہاتھ خریدتے ہیں نتیجةً اصلی کتب سے تعلّق ختم ہوچکا ہے اور محض امتحان میں پاس ہوجانا طلباءکا مطمحِ نظر بن چکا ہے۔ حصولِ علم کے جذبات معاشرے سے عنقاءہوتے جارہے ہیں۔ نوجوان علوم کے حصول اور ان میں مہارت حاصل کرنے کے بجائے محض ڈگری حاصل کرنے کی دوڑ میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں سے مذکورہ حل شدہ پرچہ جات (فائیو ایئر یا ٹِن ایئر) اور ”چنیدہ“ نوٹس دیکھنے کا موقع ملا۔ شروع میں ان کتابچوں میں جابجا غلطیاں پائیں مگر نظر انداز کردیا لیکن ذہن میں ایک گونہ خلش باقی رہی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انٹر بورڈ اور یونیورسٹی کے نصاب سے متعلّق شائع شدہ کتابچے نظر سے گزرے تو معلوم ہوا کہ اختصار اور سہولت کی فراہمی کی آڑ میں علم کے ساتھ بدترین زیادتیاں کی گئی ہیں۔ پروف ریڈنگ کی غلطیاں تو تھیں ہی مگر بہت سے مقامات پر فنی اغلاط بھی دیکھی گئیں۔ لال روشنائی والے قلم سے غلطیوں کو نشان زد کرتا رہا نتیجةً میرے پاس موجود امدادی کتابچوں کے اوراق پانی پت کے میدان کا منظر پیش کرنے لگے۔ان امدادی کتابچوں پر تکیہ کرنا طلباءمیں علمی صلاحیتوں کے نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ ان کی وجہ سے طلباءاور اساتذہ کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں اور ان کتابچوں کے شائع ہونے کے بعد تعلیمی میدان میں کوئی نمایاں ترقی نہیں ہوئی بلکہ زوال آیا ہے۔ اگر کچھ دیر کیلئے ان نوٹس کے وجود کو طلباءکے لئے ناگزیر مان بھی لیا جائے تو بھی ان کی تصحیح سے قطع نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اربابِ نظر اور نگران اداروں کو چاہیے ان شائع کنندگان کو مذکورہ امدادی کتب کے مسوّدوں کی قبل از اشاعت پروف ریڈنگ کروانے کا پابند بنائیں اور خلاف ورزی کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی اشاعتی ادارہ اس نوع کی علمی خیانت کا ارتکاب نہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلباءمیں نصابی کتب کی اہمیت کا شعور بیدار کریں اور ان امدادی کتابچوں پر بھروسہ کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کریں۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں پروان چڑتا ”شورٹ کٹ کلچر“ Reviewed by on . موجودہ دور سائنس اور ٹیکنولوجی کا دور ہے۔ انسان نے اپنی سہولت کے پسند طبیعت کی تسکین کیلئے مشینری اور آلات کے انبار لگا دیئے ہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی موجودہ دور سائنس اور ٹیکنولوجی کا دور ہے۔ انسان نے اپنی سہولت کے پسند طبیعت کی تسکین کیلئے مشینری اور آلات کے انبار لگا دیئے ہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top