جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » اہم » پاکستان کے تعلیمی نظام میں قومی زبان کی اہمیت:

پاکستان کے تعلیمی نظام میں قومی زبان کی اہمیت:

کرۂ ارض کی پانچ ہزار سالہ مرقومہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک اس نے اپنی زبان کو ہر شعبہ میں ذریعہ اظہار نہیں بنایا۔بڑی مثال یہ کہ حضرت آدمؑ سے لے کر نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ تک تمام انبیا نے اپنی ہی زبان کو جملہ مقاصد کے لیے استعمال کیا، کسی دوسری زبان کا کبھی سہارا نہیں لیا۔ مگر اس کے برعکس ہمارے ہاں یہ بدقسمتی ہے کہ ہم نے اول روز سے ہی غیروں اور غیروں کی زبان کے سہارے چلنا شروع کیا ہے۔ گزشتہ ۶۸ برس سے ہمیں ایک ہی سبق پڑھایا جارہا ہے کہ انگریزی سیکھے بغیر ترقی کرنا ممکن نہیں اور اب اس پر مستزاد یہ کہ انگریزی سائنس، ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی زبان ہے لہٰذا انگریزی پڑھنا ضروری ہے۔ مگر کیا حقیقت یہی ہے؟ اس کا جواب بڑا سادہ سا ہے وہ یہ کہ انگریزی کو سائنس، ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی زبان کس نے بنایا ہے؟ تو جواب یہ ہوگا کہ انسانوں نے بنایا ہے۔ کمپیوٹر میں بھی انسانوں نے ہی اسے فیڈ کیا ہے۔ اس طرح سے اردو کو ان شعبہ جات میں رائج کرکے مذکورہ عذر کو دور کیا جاسکتا ہے۔اپنی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنا جرم اور گناہ تو نہیں ہے، مگر اپنی زبان کا ترک ایسا جرمِ عظیم ہے جو پوری قوم کو تنزل میں دھکیل دیتا ہے۔ اپنی زبان کو چھوڑ کر دوسروں کی زبان کے پیچھے اس قدر پڑ جانا کہ رات دن اسی کو منہ مروڑ کر بولنے کی کوشش کی جائے کہ جیسے ساری کامیابی اسی میں ہے، حالانکہ معاملہ اس کے اُلٹ ہے۔ اگر پاکستان کے تعلیمی نظام کی بات کی جائے تو وہاں بھی اردو زبان کو محض ثانوی زبان کا ہی درجہ حاصل ہے۔ اگر تعلیمی نظام سے ہٹ کر بات کی جائے تو ہمارے سرکاری اداروں میں بھی اردو زبان کے بجائے مقامی زبانوں کو ترجع دی جاتی ہے۔ خود وزیراعظم پاکستان قومی زبان کے بجائے انگریزی زبان میں خطاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جب یہ لوگ قومی زیان کی قدر و قیمت کا احصاص نہیں کرتے تو یہ زبان تعلیم کے اندر کس طرح رائج کی جائے گی۔ اس لیئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو زبان میں تحقیق و تدوین کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور اردو دان طبقے اور اردو تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اردو زبان کو بطور لازمی مضمون تمام تعلیمی اداروں میں ہر سطح پر لازمی قرار دیا جائے۔ اور تمام تر سرکاری و نیم سرکاری خط و کتابت اردو میں ہونی چاہیے، نیز حکمران طبقے اور سیاست دانوں کو اپنی تقاریر اور اظہارِ خیال اردو میں کرنا چاہیے اور اسی پر فخر کرنا چاہیے کہ وہ اپنی زبان بول رہے ہیں۔جہاں میں صرف وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جن کی اپنی قومی و لسانی شناخت ہوتی ہے اور جو قوم اپنا لسانی تشخص کھو بیٹھتی ہے وہ اپنا قومی وقار بھی کھو دیتی ہے۔ لہٰذا اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے لحاظ سے مکمل طور پر نافذ کرنا پاکستان کے بیس بائیس کروڑ عوام کا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوری اور قانونی استحقاق بھی ہے۔ یقین نہ آئے تو اردو کے حق میں رائے دہی کرا کے دیکھ لیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عوام کی خواہشات و جذبات کا احترام کرتے ہوئے اور ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اردو کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

پاکستان کے تعلیمی نظام میں قومی زبان کی اہمیت: Reviewed by on . کرۂ ارض کی پانچ ہزار سالہ مرقومہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک اس نے اپنی زبان کو ہر شعبہ میں ذریعہ اظہار نہیں بنایا۔بڑی کرۂ ارض کی پانچ ہزار سالہ مرقومہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک اس نے اپنی زبان کو ہر شعبہ میں ذریعہ اظہار نہیں بنایا۔بڑی Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top