پیر , 23 اکتوبر 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » پاکستان کے ذرائع آبپاشی کا حال

پاکستان کے ذرائع آبپاشی کا حال

پاکستان میں عام طور پر دو طرح کی نہریں یعنی دوامی اور غیر دوامی نہریں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں نہروں کے ذریعے آبپاشی بہت بڑے رقبے پر کی جاتی ہے۔ پاکستان کا نہری نظام دنیا کاسب سے بہترین اور بڑا نظام ہے۔ اس نظام کے ذرےعے تقریبا تیس کروڑ ایکڑ سے زائد رقبے پر آبپاشی ہوتی ہے جس کو مختلف ذرائع آبپاشی سے سیراب کیا جاتا ہے ۔ملکی آبپاشی کے کل رقبے کا تقریبا 70 فیصد نہروں سے سیراب ہوتا ہے۔
دوامی نہروں سے مراد وہ نہریں ہیں جو سال بھر بہتی ہیں اور ان کے ذریعے کھیتوں کو سیراب کیا جاتا ہے انہی نہروں کی بدولت زراعت کے رقبے کا کل 70 فیصد سیراب ہوتا ہے۔ جبکہ غیر دوامی نہریں سال میں صرف دریاﺅں کی سطح بلند ہونے پر بہتی ہیں، تب ہی ان سے آبپاشی کی جاتی ہے اور جب دریاوں کی سطح کم ہوتی ہے تو یہ نہریں بھی خشک ہو جاتی ہیں
ہمارے ملک میں بہنے والی نہریں تقریبا دوامی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے نہری نظام کو دنیا کے بڑے اور اہم نہری نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وادی سندھ میں نہروں کا جال بچھا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ وادی اپنی زرخیزیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ پاکستان کے نہری نظاموں کو دو بڑے حصوں بالائی وادی سندھ کا نہری نظام اور زیریں وادی سندھ کا نہری نظام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔پاکستان کے نہری نظام کے سلسلے میں سندھ طاس کے منصوبے کا ذکر بہت ضروری ہے جس کا معاہدہ 1960ء میں عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان اور بھارت کے مابین طے پایا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے تین مشرقی دریاوں (ستلج، بیاس اور راوی) کے پانی پر بھارت کا مکمل حصہ تسلیم کیا گیا اور تین مغربی دریا (چناب، جہلم اور سندھ) پاکستان کے حصے میں آئے۔ مگر اب بھارت نے اس معاہدے کے اصولوں کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور وہ پاکستان کے حصوں میں آنے والے دریاﺅں کے پانی کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس معاہدے کی رو سے تین مشرقی دریاوں کے پانی کی کمی کو پورا کرنے کےلئے آبپاشی کا وسیع منصوبہ بنایا گیا جسے سندھ طاس منصوبہ کہتے ہیں اسی منصوبے کے تحت نئے بیراجوں اور بند تعمیر کیے گئے۔ رابطہ نہریں کھودی گئیں جن کے ذریعے مغربی دریاوں اور ان سے سیراب ہونے والے علاقوں میں پہچا دیا گیا،پرانی نہروں کوچوڑا کیا گیا۔ کثیر المقاصد منگلا اور تربیلا ذیم سندھ طاس معاہدے کا حصہ ہیں۔ ان دونوں ڈیموں میں نہ صرف پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے بلکہ یہاں سے پن بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔درج بالا میں بیان کردہ پاکستان کے ذرائع آبپاشی کا حال مختصر مگر جامع انداز میں بتایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان میں مختلف بندھ بھی ذرائع آبپاشی میں شامل ہیں۔ جن میں منگلا، تربیلا اور اور متعددزیر تعمیر ڈیم شامل ہیں جن کے ذریعے بڑی مقدار میں پانی کو زخیرہ کر کے مطلوبہ مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔

پاکستان کے ذرائع آبپاشی کا حال Reviewed by on . پاکستان میں عام طور پر دو طرح کی نہریں یعنی دوامی اور غیر دوامی نہریں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں نہروں کے ذریعے آبپاشی بہت بڑے رقبے پر کی جاتی ہے۔ پاکستان کا نہری نظ پاکستان میں عام طور پر دو طرح کی نہریں یعنی دوامی اور غیر دوامی نہریں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں نہروں کے ذریعے آبپاشی بہت بڑے رقبے پر کی جاتی ہے۔ پاکستان کا نہری نظ Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top