ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » انٹرٹینمنٹ » پاکستان کے لیجنڈ اداکار معین اختر

پاکستان کے لیجنڈ اداکار معین اختر

فنکار کا چہرہ ایک ایسے شیشے کی مانند ہوتا ہے جس میں معاشرے کے سارے عکس اسی طرح دکھائی دیتے ہیں جس طرح وہ حقیقت میں ہوتے ہیں اوراس دنیا میں چند فنکار ہی ایسی خصوصیت اور قابلیت کے اہل ہونگے جن کی اداکاری تصوراتی کھیل تماشے تک محدود نہیں رہتی بلکہ جب وہ معاشرتی اور ثقافتی مسائل کو اس طرح اداکاری کے رنگ میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں کہ آپ کا پہلا ردعمل تو قہقہوں پرمبنی ہوتا مگر اگلے ہی لمحہ ایک دم احساس ہوتا ہے کہ اس نے مزاح میں کیا کچھ پروکر اسے تسبیح کی ایک شکل دے کر آپکے ہاتھوں میں تھما دیا ہے۔یسا ہی ایک نام معین اختر تھا، وہ فقط اک ستارہ نہیں بلکہ کہکشاں کی مانند تھا جس میں بیک وقت بہت سے ستارے محو گردش رہتے ہیں اور جب پردہ سکرین پر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو یہ کرداروں کی صورت اختیار کرکے طنز و مزاح کے رنگ میں معاشرتی بیماریوں کی نہ صرف نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ضمیر کو بھی جھنجوڑ دیتے ہیں۔اسکی مثال انکا ایک شو ’’لوز ٹاک‘‘ تھا جس میں انور مقصود کا کردار میزبان اور معین اختر کا بطور مہمان تھا، جس کے ہر شو میں وہ ایک نیا روپ دھار کر پیش ہوتے اور طنز و مزاح کے رنگ میں وہ سب کچھ بیان کردیتے جن پر عام حالات میں لوگ بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے تھے۔
معین اختر نے معیاری اور بامقصد طنز و مزاح کو اس بلند مقام پر لا کھڑا کیا جس سے آگے لے جانا کسی اور کے بس میں نہیں۔ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا اور لاکھوں دلوں کی دھڑکنوں میں بسنے والا معین اختر آج ہی کے روز 22 اپریل 2011ء میں اپنے ہی دل کی دھڑکنیں رک جانے کے سبب اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور ستارہ امتیاز کے علاوہ بے شمار انعامات سے نوازا گیا۔ اپنے فن کی بدولت اس فنکار نے دل و دماغ پر وہ اثر چھوڑا ہے جو نسل در نسل قائم رہے گا

پاکستان کے لیجنڈ اداکار معین اختر Reviewed by on . فنکار کا چہرہ ایک ایسے شیشے کی مانند ہوتا ہے جس میں معاشرے کے سارے عکس اسی طرح دکھائی دیتے ہیں جس طرح وہ حقیقت میں ہوتے ہیں اوراس دنیا میں چند فنکار ہی ایسی خصو فنکار کا چہرہ ایک ایسے شیشے کی مانند ہوتا ہے جس میں معاشرے کے سارے عکس اسی طرح دکھائی دیتے ہیں جس طرح وہ حقیقت میں ہوتے ہیں اوراس دنیا میں چند فنکار ہی ایسی خصو Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top