اتوار , 23 جولائی 2017

Home » اضافی » پنکھڑی اک گلاب کی سی

پنکھڑی اک گلاب کی سی

ذکر ہو غزال سی آنکھوں کا تو تصور میں ہونٹ سے گلاب ضرور آتے ہیں، گلاب تمام گلوں کا بادشاہ ہے، سب پھولوں کا شہنشاہ ہے، باغوں کی رونق، شاعری کا لازمی جزو، قدرت کا حسین تحفہ گلاب اپنی مثل آپ ہے کیونکہ کوئی بھی پھول اس کی خوبصورتی اور رعنائی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔شکسپئیر نے اپنے ایک ڈرامے ’’رومیو اینڈ جیولیٹ ‘‘ میں گلاب کے بارے میں لکھا ’’نام کی کیا اہمیت ہے، گلاب کو جس نام سے پکارو اس کی مہک کم نہیں ہوگی۔‘‘دنیا بھر میں گلاب کی کم و بیش 20 ہزار سے زائد اقسام ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں گلاب ساڑھے 3 کروڑ سال سے موجود ہیں، چین میں 5 ہزار سال قبل گلاب کی کاشت شروع ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ یہ مشرق وسطیٰ اور ایشیاء تک جا پہنچا۔
امریکی کانگریس اور سابق صدر ریگن نے 1986ء میں گلاب کو امریکا کا قومی پھول قرار دیا، اس کی پیداوار کے لحاظ سے اگر بات کی جائے تو ہالینڈ میں سب سے زیادہ گلاب پیدا ہوتے ہیں جبکہ گلاب کی برآمد میں جرمنی سرفہرست ہے۔ کینیا میں ایک سال کے دوران ہونے والی پھولوں میں سے 70 فیصد پیداوار گلاب کی ہوتی ہے، جنگلی گلاب کی سب سے زیادہ اقسام ہوتی ہیں، پاکستان میں گلاب کی سب سے زیادہ ورائٹی واہ کینٹ کے علاقے میں ہے۔ہمارے ملک میں گلاب کی پیداوار اور کھپت کے لحاظ سے کافی کام ہو رہا ہے کیونکہ یہاں کٹ فلاورز کا کاروبار تیزی سے فروغ پارہا ہے اور انواع و اقسام کے گلاب لگائے جارہے ہیں، جن میں سفید، سرخ، نیلا، پیلا اور گلابی گلاب شامل ہیں، گلاب کی مشہور 4 اقسام ہیں سفید، سرخ، پیلا اور کالا جبکہ دیسی گلاب لاہور اور چوہا سیدن شاہ میں پایا جاتا ہے۔
پاکستان میں ٹھٹھہ کے علاقے میں نایاب قسم کے گلاب موجود ہیں، گلاب کا پودا باغوں کے علاوہ گھر میں بھی لگایا جاسکتا ہے، تاہم اسے زیادہ پانی اور مناسب دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے۔گلاب کی کٹائی ہمیشہ صبح سویرے یا شام ڈھلے کرنی چاہئے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہوا اور مٹی میں نمی زیادہ ہوتی ہے اور پھول جلدی مرجھاتے نہیں۔
اگرچہ کہ موسم بہار میں تمام اقسام کے پھولوں کی نمائش کی جاتی ہے تاہم گلاب کا نکھار اور خوبصورتی سب سے منفرد ہوتی ہے، بھارت میں ایک مرتبہ گلاب کی نمائش میں 3 ہزار سے زائد گلاب کے پھول رکھے گئے تھے۔

ہماری زندگی کا کوئی بھی لمحہ گلاب سے خالی نہیں، شاعروں نے سب سے زیادہ گلاب کو ہی موضوع سخن بنایا ہے، کہیں محبوب کے ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑی کی طرح نرم و نازک قرار دیا ہے تو کہیں محبوب کو ہی سراپا گلاب قرار دے دیا ہے۔حسن کا اظہار اگر ایک لفظ میں کرنا ہو تو گلاب کہہ دینا کافی ہے، گلاب کے پھولوں کا استعمال طب اور فیشن دونوں میں ہوتا ہے کیونکہ یہ سدا بہار پودا ہے لہٰذا عرق گلاب آنکھوں کی سرخی، منہ کے چھالے اور بدبو دور کرنے میں بھی مفید ہے۔ آنکھوں کی سوجن یا کسی بھی قسم کی تکلیف ہو 2، 3 قطرے عرق گلاب آنکھوں میں ٹپکا لیں، منہ کے چھالے بہت تکلیفدہ ہوتے ہیں جن سے نجات کیلئے چند تازہ پتیاں چبانا مفید ثابت ہوگا، گلاب کئی مشروبات میں بھی شامل کیا جاتا ہے اور کئی طرح کی ادویات کی تیاری بھی اس کے بنا ادھوری ہے۔ (بحوالہ مجلہ عبقری)…
گلاب کو انگریزی میں ’’روز‘‘ کہتے ہیں جو فرانسیسی زبان سے اخذ کیا گیا ہے، یہ کمرشل پرفیوم بنانے کے کام بھی آتا ہے، دنیا کا کوئی پرفیوم گلاب کے عرق کے بغیر نہیں بنایا جاسکتا، پرفیوم کی غرض سے نکالے گئے اس عرق کو روز آئل بھی کہتے ہیں۔

گلاب کے کئی طرح کے عطر بھی بازار میں دستیاب ہیں تاہم ان میں سے اصلی اور نقلی کی پہچان بے حد ضروری ہے، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مغل شہزادیاں اپنے حسن کے نکھار کیلئے عرق گلاب سے غسل بھی کرتی تھیں۔فنون لطیفہ میں بھی گلاب کا ایک اہم کردار رہا ہے، گلاب کی پیتاں سکھا لی جاتی ہیں اور پھر ان سے پورٹریٹ بھی تیار کئے جاتے ہیں۔شاعری کا موضوع ہو یا خوشی کی کوئی بھی تقریب، گلاب کی موجودگی ضروری ہے لیکن قدرت کا یہ حسین تحفہ ہمارے فنا ہونے کے بعد بھی ہمارے کام آتا ہے اس لئے کہ یہ ہماری مرقد کی زینت بھی بن جاتا ہے۔

پنکھڑی اک گلاب کی سی Reviewed by on . ذکر ہو غزال سی آنکھوں کا تو تصور میں ہونٹ سے گلاب ضرور آتے ہیں، گلاب تمام گلوں کا بادشاہ ہے، سب پھولوں کا شہنشاہ ہے، باغوں کی رونق، شاعری کا لازمی جزو، قدرت ک ذکر ہو غزال سی آنکھوں کا تو تصور میں ہونٹ سے گلاب ضرور آتے ہیں، گلاب تمام گلوں کا بادشاہ ہے، سب پھولوں کا شہنشاہ ہے، باغوں کی رونق، شاعری کا لازمی جزو، قدرت ک Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top