ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تحقیق و جستجو » چین کا زرد دریا

چین کا زرد دریا

چین کا دریائے زرد جسے چین کے لوگ ہوانگ- ہی کے نام سے جانتے ہیں ایشیا کا تیسرے نمبر پر بڑا دریا ہے۔ اور دنیا کے چھٹے نمبر پر گہرے اور بڑے دریائوں میں شامل ہے۔ اسے مٹی کی بہتات کے باعث دریائے زرد کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کا سب سے زیادہ مٹیالا دریا ہے جو ہر منٹ میں سینکڑوں ٹن مٹی سمندرکی نذر کرتا ہے۔

KuKou water fall
یہ چین کے علاقے بیان هر کے پہاڑوں کے درمیان سے روا ہوتا ہے اور وهاں سے بہتاہوا چین کے نو صوبوں کو پانی دیتا ہے۔ اور بحیرہ بوہائی میں جاگرتا ہے جو کہ چین کے صوبے شانوگ میں پایا جاتا ھے۔
رقبه
اس کی طوالت ,۴۸۴۵کلو میٹر یا ۳۳۹۵ میل ہے۔ یہ مشرق سے مغرب کی طرف ۱۹۰۰ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اور شمال سے جنوب کی جانب ۱۱۰۰ کلومیٹر تک۔ اس کا کل رقبه ۷۴۲۴۴۳ مربع کلومیٹر ہے۔
تاریخ
دریائے زرد کوچین کا اہم دریااورچینی تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا ہے۔ اس دریا کو چین کا جھولا بهی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ قدیم چینیوں کی ابتداء یہاں سے ہوئی تھی۔ یہ چین کی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ بہت جانیں لینے کا ذمہ دار ہے۔ تاریخ میں کئی مرتبہ اس دریا کے کناروں میں شگاف پڑے جن سے تاریخ کے بد ترین سیلاب آئے اور لاکھوں افراد کی جانیں اس کی نذر ہوگئیں۔
تیرہویں صدی کے سیلاب نے ستر لاکھ لوگون کی جانیں لی ہے اس کے بعد آٹھارویں صدی میں بھی نو سے لے کر بیس لاکھ لوگوں کی جانیں لے چکا ہے۔ یہاں پر گیاره بڑے سیلاب آچکے ہیں۔ چین اور جاپان کی جنگ کے دوران بھی کئی بار یہاں سیلاب آیا ۔ چین کے بہترین انجینیر اس کے آگے بندھ باندھتے ہیں مگر یہ دریا سارے بندھ توڑنا جانتا ہے۔
ثقافتی اہمیت
قدیم دورمیں چینی یہ کہتے تھے کہ یہ دریا کہکشائوں سے ہوتے ہوئے سیدھا جنت سے آتا ہے۔ اس کے نام کے معنی شمال کا دریا ور جنوب کا دریا مانا جاتا ھے۔اسے دریائوں کی ماں بھی کہ کر پکارا جاتا ہے۔ اور اس کے بدترین سیلاب کی وجہ سے اسے چین کا درد بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ایک طویل عرصے سے چین کے ساتھ ہے اس کی وجہ سے یہ چین کا فخر بھی کہلاتا ہے۔ چین کا ایک محاورہ ہے " جب دریائے زرد سکون سے بہے گا" یہ محاورہ ایسی چیزوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کبھی نہیں ہوگی کیونکہ اس دریا کے نصیب میں سکون سے بہنا نہیں ہے۔
زراعت
حالانکہ اس کے سیلاب کی وجہ سے یہ دریا زراعت کے لیے مناسب نہیں ۔ مگر شمال اور جنوب کے چین کے حصے میں کچه علاقوں میں زراعت اسی دریا کے سبب ہوتی ہے۔ اہم زراعتی علاقے ژنگ یانگ اور زینگزو ہے۔
اس کے علاوه اس کے کچھوے بھی چین میں بہت پسند کیے جاتے ہیں اور اس کے مختلف ریسٹورنٹس میں اس کے ساتھ مختلف کھانے بنائے جاتے ہیں۔
دنیا میں جتنی بھی قدیم ثقافتیں بڑے بڑے دریائوں کے پاس دریافت کی گئی ہے کیونکہ پانی جینے کا اہم ذریعہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ حد سے زیادہ بڑھی هوئی نعمت زحمت بن جاتی ہے۔ جیسے دریائے زرد چین کے فخر کے ساتھ ساتھ اس کا درد بھی ہے۔

چین کا زرد دریا Reviewed by on . چین کا دریائے زرد جسے چین کے لوگ ہوانگ- ہی کے نام سے جانتے ہیں ایشیا کا تیسرے نمبر پر بڑا دریا ہے۔ اور دنیا کے چھٹے نمبر پر گہرے اور بڑے دریائوں میں شامل ہے۔ اس چین کا دریائے زرد جسے چین کے لوگ ہوانگ- ہی کے نام سے جانتے ہیں ایشیا کا تیسرے نمبر پر بڑا دریا ہے۔ اور دنیا کے چھٹے نمبر پر گہرے اور بڑے دریائوں میں شامل ہے۔ اس Rating: 0
scroll to top