جمعہ , 21 جولائی 2017

Home » اضافی » کاشتکاری کے جدیدطریقے

کاشتکاری کے جدیدطریقے

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی ۰۷ سے ۵۷ فیصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی قومی آمدنی کا انحصار بھی زراعت ہی پر ہے۔ پاکستان کی آبادی 18 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور اتنی بڑی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہمیں اپنی زراعت کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کے کسانوں کا انداز آج بھی وہی ہے جو ان کے باپ دادا اپنایا کرتے تھے۔ وہی روایتی زرعی آلات آج بھی استعمال کئے جا رہے ہیں اور وہی چھوٹے چھوٹے رقبوں پر کاشت کی جا رہی ہے۔ باپمرتے تو اس کا کھیت اس کے لواحقین، بیٹے، بیٹوں کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے اور اس طرح بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے رقبوں پر مشینی کاشت نہیں کی جاسکتی۔ علاوہ ازیں منصوعی آبپاشی کے ذرائع بھی ناقص ہیں۔ یہ سیم و تھور نے ہماری زرعی ترقی کے لئے بڑی مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔

ہمارے ملک کا کسان زرعی تعلیم و تربیت سے محروم ہے جس کی وجہ سے جدید زرعی آلات اور سائنسی طریقہ کاشت سے ناواقف ہے اور زراعت کے جدید طریقے اپنانے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ ان پڑھ (ناخواندہ) اور تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے کیمیائی کھاد اور عمدہ قسم کے بیج بھی حاصل نہیں کرتا کیونکہ وہ ناخواندہ ہونے کی وجہ سے زرعی معلومات درست طور پر حاصل نہیں کر سکتا اسی لیے زمین سے پودا پورافائدہ نہیں اٹھاتا اور اس طرح فی ایکڑ پیداوار مطلوبہ ہدف سے کم حاصل ہوتی ہے۔

دیسی ہل زمین میں زیادہ گہرائی تک نہیں جاتا جس کی وجہ سے زمین کے نیچے تک کی ذرخیز مٹی استعمال میں نہیں آتی۔ کاشتکار مالی اعتبار سے کمزور ہیں جس کے باعث جدید زرعی آلات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ مشینوں کا استعمال بہت ہی کم ہوتا ہے، ملک میں ابھی بھی چند مقامات پر ٹریکٹروں کی جگہ گائیں بھینسوں سے کام لیا جاتا ہے یعنی ٹریکٹر کا استعمال عام نہیں ہے کیونکہ اس کا خرچ بہت زیادہ ہے۔

فصلوں کی سلسلہ وار کاشت عمل میں نہیں لائی جاتی جس سے زمین کی زرخیزی قائم رہ سکے۔ ہمارے ملک کے کسان افلاس و غربت کی وجہ سے کمزور جانور استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی پیداوار سخت محنت کے باوجود بھی بہت کم ہے۔ ہمارے ملک میں نہری علاقے کی زرخیز زمین سیم و تھور کی وجہ سے ناکارہ ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کی زراعت کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہمارے ملک میں بارشیں اور آندھیا زمینی کٹاو کرتی رہتی ہیں اور فصلی بیماریاں اور وبائیں بھی ہمارے کسان کے لیے پریشانی کا موجب بنتی ہیں۔

مجموعی طور پر ہمارے ملک میں طریقہ کاشت روایتی‘ناقص اور اصلاح طلب ہے۔ اس سلسلہ میں زرعی ترقی کے لئے جو اقدامات اور عملی تجاویز ضروری ہو سکتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں

نظام آبپاشی کی اصلاح کی جائے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر کاشت کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ اچھی نسل کے مویشی ،عمدہ اور معیاری کھاد اور عمدہ بیج کی فراہمی عام کی جائے۔ کسانوں کو سائنسی معلومات فراہم کی جائیں۔ امداد باہمی کے طریقوں کو فروغ دیا جائے۔ آسان قسطوں پر قرضوں کی فراہمی کو بلا امتیاز یقینی بنایا جائے۔ ضروری زرعی سامان و آلات مناسب قیمت پر فراہم کیا جائے۔ فراہمی کے سلسلے میں کسی قسم کی رکاوٹ حائل نہ رہے۔ فصلوں کی بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دی جائے ضروری دواوں وغیرہ کی فراہمی کو بھی یقینی بنایاجائے۔ مویشیوں کی صحت کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں۔ عمدہ نسل کے مویشیوں کی دستیابی کا انتظام کیا جائے۔ اگر ان بیان کردہ تجاویز پر صدق دل سے عمل کیا جائے تو ہمارے شبعہ زراعت میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے اور اس طرح ہمارا ملک پیداواری اور اقتصادی اعتبار سے بھی ترقی کر سکتا ہے۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر (ایف اے او) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں کاشتکاری کے موجودہ رحجانات کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ کیڑے مار ادویات کے بے دریغ استعمال کو کم کرتے ہوئے وہاں پائیدار اور ماحول دوست زراعتی طریقے اختیار کیے جائیں، ‘پیداواری عمل کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ زرعی اراضی کی زرخیزی کو برقرار رکھا جائے’۔ سائنسی حوالے سے ایسے شواہد موجود ہیں کہ اگر کیڑےمار ادویات کا بے جا استعمال کیا جائے تو زمین کی زرخیزی پر بھی اثر پڑتا ہے۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ماحول دوست کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے اور کسانوں کو مراعات دی جائیں تاکہ وہ کاشتکاری کے اپنے روایتی انداز اور رحجانات کو بدلتے ہوئے ماحول دوست اور جدید طریقے اختیار کر سکیں۔اس وقت دنیا کی کل آبادی کم و بیش سات ارب بنتی ہے۔ اقوام متحدہ کے محتاط اندازوں کے مطابق ایک ارب سے زائد انسان غربت کا شکار ہیں۔ اس طرح خوراک کی کمی کے باعث انسانوں کی ایک بڑی تعداد بھوک میں مبتلا ہو رہی ہے۔ ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق رواں صدی کے اواخر تک دنیا کی کل آبادی ۹ ارب تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر بھوک کا مسئلہ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ اس ادارے نے مستقبل کی اس خطرناک صورتحال سے بچاو کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات ابھی سے شروع کر دینے چاہیئے ہیں۔

کاشتکاری کے جدیدطریقے Reviewed by on . پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی ۰۷ سے ۵۷ فیصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی قومی آمدنی کا انحصار بھی زراعت ہی پر ہے۔ پاک پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی ۰۷ سے ۵۷ فیصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی قومی آمدنی کا انحصار بھی زراعت ہی پر ہے۔ پاک Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top