بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » تازہ ترین » کہکشانی مرکز سے باہر انتہائی بڑا بلیک ہول دریافت

کہکشانی مرکز سے باہر انتہائی بڑا بلیک ہول دریافت

یونیورسٹی آف نیو ہیمپشائر کے ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسا خطرناک آوارہ گرد بلیک ہول دریافت کیا ہے جس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ ہے اور جو اپنے راستے میں آنے والے گیسی بادلوں اور ستاروں کو ہڑپ کرتے ہوئے بڑی تیزی سے آگے بڑھتا جارہا ہے۔اس سے ہماری زمین یا نظامِ شمسی کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ یہ بلیک ہول ہم سے 4.5 ارب نوری سال دوری پر ہے۔ اس قسم کے بہت بڑے بلیک ہولز کے بارے میں اب تک یہ خیال عام تھا کہ ان کا وجود کسی کہکشاں کے مرکز ہی میں ممکن ہوسکتا ہے جب کہ یہ خلاء میں آزادانہ آوارہ گردی نہیں کرسکتے۔ ہماری کہکشاں کے مرکز میں بھی ایسے ہی بڑے بلیک ہولز موجود ہیں جن میں سے ایک کی کمیت ہمارے سورج سے 40 لاکھ گنا زیادہ معلوم کی جاچکی ہے۔ یعنی یہ پہلا موقعہ ہے جب سورج سے لاکھوں گنا زیادہ کمیت والا کوئی بلیک ہول کہکشانی مرکز سے باہر دریافت ہوا ہے۔بلیک ہول بننے والے عام ستاروں کی ابتدائی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ضخیم (Massive) بلیک ہول ان سے بھی بڑے ہوتے ہیں اور ان کی کمیت ہمارے سورج سے 100 تا ایک لاکھ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن بلیک ہولز کی سب سے بڑی قسم ’’فوق ضخیم‘‘ (Super-massive) کہلاتی ہے جس میں شامل کسی بھی بلیک ہول کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں کئی لاکھ گنا زیادہ سے لے کر اربوں گنا تک زیادہ ہوسکتی ہے۔
اب تک ہمیں یہی معلوم تھا کہ ضخیم اور فوق ضخیم، دونوں اقسام کے بلیک ہولز صرف کسی کہکشاں کے مرکز ہی میں پائے جاسکتے ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’سرگرم کہکشانی مرکزے‘‘ (Active Galactic Nuclei) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا کہ اتنی زیادہ کمیت والا کوئی بلیک ہول آزاد حیثیت میں بھی (کہکشانی مرکزے سے باہر) پایا جاسکے۔ لیکن XJ1417+52 اس عمومی تصور کی واضح خلاف ورزی کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بتانا ضروری ہے کہ بلیک ہولز کو براہِ راست نہیں دیکھا جاسکتا لیکن جب بھی یہ گیس کے کسی بادل یا ستارے کو ہڑپ کرتے ہیں تو اس دوران شدید قسم کی ایکسریز خارج ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر کسی بلیک ہول کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف نیو ہیمپشائر کے سائنسدانوں کی ٹیم نے دو الگ الگ ایکسرے دوربینوں یعنی ناسا کی ’’چندرا‘‘ اور یورپی خلائی ایجنسی کی ’’نیوٹن‘‘ سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے ایک دور افتادہ کہکشاں DSS J141711.07+522540.8 سے آنے والی ایکسریز کا جائزہ لیا تو انہیں معلوم ہوا کہ سورج سے لاکھوں گنا زیادہ کمیت والا ایک بلیک ہول اس کہکشاں کے کنارے پر ہے جو اپنے راستے میں آنے والے ہر ستارے اور گیس و گرد کے ہر بادل کو نگلتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔

اتنا بڑا بلیک ہول جسے اصولی طور پر کہکشانی مرکز میں ہونا چاہیے تھا، وہ کہکشاں کے کنارے پر آوارہ گردی کیوں کررہا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔ ایک مفروضہ یہ ہے کہ شاید یہ خود کسی قدیمی کہکشاں کی باقیات میں سے ہے جس سے دوسرے ستارے بچھڑ چکے ہیں۔ البتہ اگر آنے والے برسوں میں ایسے فوق ضخیم اور آوارہ گرد بلیک ہولز کی زیادہ تعداد دریافت ہوگئی تو پھر یقیناً ہمیں کہکشاؤں کے وجود میں آنے سے متعلق اپنے مروجہ نظریات میں تبدیلی کرنی پڑ جائے گی۔

کہکشانی مرکز سے باہر انتہائی بڑا بلیک ہول دریافت Reviewed by on . یونیورسٹی آف نیو ہیمپشائر کے ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسا خطرناک آوارہ گرد بلیک ہول دریافت کیا ہے جس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ ہے اور جو یونیورسٹی آف نیو ہیمپشائر کے ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسا خطرناک آوارہ گرد بلیک ہول دریافت کیا ہے جس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ ہے اور جو Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top