جمعہ , 21 جولائی 2017

Home » تحقیق و جستجو » کیا فیس بک واقعی قابلِ اعتبار ہے؟

کیا فیس بک واقعی قابلِ اعتبار ہے؟

فیس بک ڈیٹا جمع کرنے کے لحاظ سے دنیا کے بااثر ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کمپنی کے اندر کیا ہوتا ہے اور یہ کام کیسے کرتی ہے؟
دو برس قبل سربیا کے شہر بلغراد کے ولادان جوئلر اور ان کے دوستوں نے فیس بک کے اندرونی مکینزم کا کھوج لگانے کا بیڑا اٹھایا۔ان کی ٹیم میں ڈیٹا ایکسپرٹ شامل ہیں اور وہ پروجیکٹ ‘شیئر لیب’ کے تحت فیس بک کی پرتیں الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ‘اگر فیس بک ملک ہوتی تو اس کی آبادی چین سے زیادہ ہوتی۔’فیس بک کے پاس اپنے تقریباً دو ارب صارفین کا 300 پیٹا بائٹ (1 پیٹا بائیٹ = 1000 ٹیرابائیٹ) ڈیٹا محفوظ ہے اور صرف 2016 ہی میں اس کی آمدن 28 ارب ڈالر سے متجاوز تھی۔تاہم جوئلر کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہم نہیں جانتے کہ فیس بک کام کیسے کرتی ہے، حالانکہ ہم صارف ہی اسے مفت میں یہ تمام ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں۔جوئلر کے مطابق ‘ہم نے تمام ان پُٹس کی نقشہ بندی کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے لائیکس، شیئرز، تلاش، اپ ڈیٹ اسٹیٹس، تصاویر، دوست، نام شامل کرنے کے نقشے اور فلو چارٹ بنائے۔ یہ دیکھا کہ ہماری استعمال کردہ ڈیوائسز سے سے ہمارے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے، ہم فیس بک کو ایپس کے ذریعے کیا کیا اجازتیں دے رہے ہیں، مثلاً فون اسٹیٹس، وائی فائی کنکشن اور آڈیو ریکارڈ کرنے کی اجازت۔’یہ چیزیں تصویر کا صرف ایک چھوٹا سا رخ ہیں، اس لیے جوئلر کی ٹیم نے یہ بھی دیکھا کہ فیس بک نے اب تک کون سی کمپنیاں خرید رکھی ہیں اور اس کے پیٹنٹ کیا کہانی سناتے ہیں۔نتائج حیران کن تھے۔
ہم جو ڈیٹا دیتے ہیں ان کی مدد سے فیس بک ہمارے جنسی رویے، سیاسی ترجیحات، سماجی رتبے، سفر کے شیڈیول اور دوسری بہت سی چیزوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتی ہے۔فیس بک پر ہم جو لنک شیئر کرتے ہیں یا جن چیزوں کو لائیک کرتے ہیں، وہ صرف فیس بک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک بہت بڑے ایلگوردم کا حصہ بن جاتے ہیں جن میں انسٹاگرام، وٹس ایپ، اور دوسری ایسی سائٹس شامل ہیں جو فیس بک کا لاگ ان استعمال کرتی ہیں۔اس سارے عمل کے ذریعے فیس بک اپنے صارفین کے بارے میں دہشت زدہ کر دینے والی درستگی سے معلومات حاصل کرتی ہیں، مثلاً کیا ہمیں چائنیز کھانے پسند ہیں، ہمارے بچوں کی عمریں کیا ہیں یا پھر ہمیں گھر سے دفتر پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔جوئلر کا ایک اور فلو چارٹ بتاتا ہے کہ ہم فیس بک کو نادانستگی میں اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹیکسٹ میسج پڑھ سکے، ہماری اجازت کے بغیر فائلیں ڈاؤن لوڈ کرے اور یہ جان سکے کہ ہم اس وقت کہاں ہیں۔ان تمام چیزوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جوئلر کہتے ہیں کہ ‘اگر آپ کُکیز، موبائل فون پر دی گئی اجازتوں، یا پھر (تصاویر) میٹا ڈیٹا کے بارے میں سوچیں۔ ان میں سے ہر چیز انتہائی دخل اندازی کرنے والی ہے۔’فیس بک کہتی چلی آئی ہے کہ اس کیلئے صارفین کی پرائیویسی مقدم ہے۔ تاہم جوئلر کہتے ہیں کہ اس کے طویل مدتی مضمرات زیادہ تشویش ناک ہیں۔
یہ سارا ڈیٹا ایک ہی کمپنی کی مٹھی میں رہتا ہے۔ اگر فرض کیا کہ آج فیس بک چلانے والے قابلِ اعتماد ہیں، لیکن 20 سال بعد کیا ہو گا؟ اس وقت کمپنی چلانے والے لوگ کیسے ہوں گے؟تاہم جوئلر کے نقشے بھی فیس بک کی طاقت کی مکمل تصویر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان کے علاوہ بہت سے خفیہ ایلگوردم بھی کام نہ کر رہے ہوں۔ان کے خیال میں ‘اس کے باوجود یہ ہماری دنیا کی صورت گری کرنے والی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔’

کیا فیس بک واقعی قابلِ اعتبار ہے؟ Reviewed by on . فیس بک ڈیٹا جمع کرنے کے لحاظ سے دنیا کے بااثر ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کمپنی کے اندر کیا ہوتا ہے اور یہ کام کیسے کرتی ہے؟ فیس بک ڈیٹا جمع کرنے کے لحاظ سے دنیا کے بااثر ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کمپنی کے اندر کیا ہوتا ہے اور یہ کام کیسے کرتی ہے؟ Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top