بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » تازہ ترین » ہمارا تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟

ہمارا تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟

دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ اپنے تعلیمی شعبے کو بہتر نہ کرلے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ دنیا میں صرف وہی اقوام اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ہے۔ ہر فلاحی ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو بہترین تعلیمی سہولت فراہم کرے۔
بد قسمتی سے پاکستان تعلیم کے شعبے میں آج دنیا کے دیگر ممالک سے بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ ہمارے ملک میں نظام تعلیم انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے اور اس وقت بھی وطن عزیز میں انگریزوں کا قائم کردہ وہی تعلیمی ڈھانچہ نافذ ہے جس کے ذریعے سے ہم صرف کلرک ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ تعلیمی ڈھانچے کی اسی خرابی کے نتیجے میں آج ہم سائنس اور تحقیق کے شعبے میں دنیا کے بہت سے ترقی پذیر ممالک سے بھی پیچھے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی طبقاتی نظام تعلیم موجود ہے، جس میں ایک طرف او لیول اور کیمبرج سسٹم کے اسکولز ہیں، جن سے صرف دولت مند طبقے کے بچے ہی فیضیاب ہوسکتے ہیں، تو دوسری جانب سرکاری اسکول ہیں، جو غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی پہنچ میں تو ہیں لیکن ان کی حالت زار سے بھی تمام لوگ بخوبی واقف ہوں گے۔
ملک بھر میں موجود اکثر سرکاری اسکولوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں اور متعدد اسکولوں میں طلبہ کے بیٹھنے کیلئے کرسیاں تک موجود نہیں ہوتیں، جبکہ بہت سے سر کاری اسکول ایسے بھی ہیں جو آج تک اساتذہ سے محروم چلے آرہے ہیں۔ سہولیات کے فقدان اور ناقص معیار تعلیم کے باعث غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے ذہین طلباءبھی تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ امیر اور غریب کے تعلیمی معیار میں اسی فرق کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا طالبعلم آگے بڑھنے سے محروم رہ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پورے ملک پر او لیول اور کیمبرج طبقہ راج کرتا رہتا ہے، جسے نہ تو غریب عوام کے مسائل کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ملک میں تعلیم کو کاروبار کا ذریعہ بھی بنایا جاچکا ہے، جبکہ بے شمار نجی یونیورسٹیز، کالجز، اسکول اور کوچنگ سینٹرز طلباءسے بھاری فیس وصول کرتے ہیں، جنہیں متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین کیلئے فراہم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ملک کے ہر شہر کے گلی محلوں میں چھوٹے نجی اسکولز کی بھی بھر مار ہے، جبکہ سرکاری اسکولوں میں ناقص معیار تعلیم کی وجہ سے اکثر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں تعلیم دلوائیں، لیکن ان اسکولوں کی حالت زار بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہوتی۔ ان میں سے بیشتر نجی اسکولوں کے مالکان اساتذہ کی قابلیت پر خاصی توجہ نہیں دیتے بلکہ زیادہ منافع کمانے کی خاطر کم قابلیت والے اساتذہ کو انتہائی قلیل تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر نجی اسکولوں کے اساتذہ طلبہ کو نصاب سمجھانے سے قاصر رہتے ہیں۔
پاکستان کی ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں دو وقت کی روٹی کھانا انتہائی مشکل ہو، وہاں والدین اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے بھاری فیسوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ نتیجہ یہ کہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بیشتر ہونہار طلباءاپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور بالآخر معاش کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔
ملک کے ہر صوبے میں طلباءکو الگ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ جبکہ گلی کوچوں میں قائم بیشتر نجی اسکولز میں سے بھی تقریباً ہر اسکول کا الگ ٹیکسٹ بورڈ قائم ہے، جبکہ ہر صوبے کا تعلیمی نصاب الگ ہونے کی وجہ سے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی میں بھی کمی دیکھنے میں آتی ہے۔
پاکستان کو دنیا میں ترقی یافتہ ملک بنانے کیلئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، جس میں نصاب کو بہتر بنانا اور تعلیم کیلئے مختص بجٹ میں پانچ سے دس فیصد تک اضافہ شامل ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ایسی قانون سازی کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو من مانی اور فیس کی مد میں بھاری رقوم وصول کرنے سے روکا جا سکے اور وہ طلباءسے سرکاری طور پر طے شدہ فیس ہی وصول کر سکیں۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم کو رائج کریں اور تمام جگہ طلباءکو ایک ہی طرح کا نصاب پڑھائیں، تاکہ منتشر قوم کو یکجا اور طبقاتی فرق کو ختم کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے معیار کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباءبہتر طور پر تعلیم حاصل کریں اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکیں۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر بلکہ ہنگامی بنیادوں پر ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور تعلیمی ماہرین کی مشاورت سے ایک ایسا تعلیمی نظام وضع کیا جائے جس کے ذریعے پاکستان بھی سائنس اور تحقیق کے میدان میں دنیا کے نہ صرف ترقی پذیر، بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی بھی برابری کر سکے۔
جو قومیں تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرتی ہیں وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیںاور ان کا دنیا میں اپنا وجود دیر تک برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟ Reviewed by on . دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ اپنے تعلیمی شعبے کو بہتر نہ کرلے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ دنیا میں صرف وہی اقوام اپنا وجود بر قرا دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ اپنے تعلیمی شعبے کو بہتر نہ کرلے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ دنیا میں صرف وہی اقوام اپنا وجود بر قرا Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top