جمعرات , 27 جولائی 2017

میرے متعلق

10647244_467151606757220_7890270103884598179_n


اسلام و علیکم، محترم قارئین میرا تعارف کچھ یوں ہے۔

نام: عبدالماجد،    آبائی شہر: خوشاب،        موجودہ رہائش : کراچی۔

 جب میں اپنے گزشتہ سالوں کوسوچتا ہوں تو سکول، کالج اور پھر یونیورسٹی میں دوران تعلیم کتنے ہی ہم عمر دوست اور طلبایاد آتے ہیں۔ آج ہر کوئی کہیں نہ کہیں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ بہت ہیں جو ہم سے آگے بڑھ گئے اور بہت ہیں جو علم کے میدان سے ہٹ کر روز مرہ کی مصروفیات میں مشغول ہیں۔

حصول تعلیم کے بعد روزگار کی تلاش کا مرحلہ آتا ہے، جس میں کامیابی کے بعد ہم ساری عمر کسی خاص خدمت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مختلف "خدمات" سرانجام دینے کے بعد چند دن چھٹیوں کے ملے تو اچانک خیا ل آیا کہ کیوں نہ ایک پروفیشنل ویب سائٹ بنائی جائے؟۔

دوسروں کے پاس خدمت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے ملک و قوم کی ترقی میں آپ کا کردار بھی شامل ہو جاتا ہے۔ مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ کی اپنی کوئی پہچان نہیں رہتی، گویا آپ کی ساری آزادی سلب ہو کر صرف اس خاص ادارے کو تفویض ہو  جاتی ہے۔ یقینا مخلص افراد کو اپنا تن ،من ، دھن اپنے محسن ادارے کو سونپ دینا چاہیے۔ کیونکہ وہی آپ کی پہچان اور شان ہے۔

مگر میں سمجھتا ہوں، سوچتا تھا، کہ انسان اس وقت صحیح مطمئن زندگی گزارتا ہے جب کوئی بھی نوکری اس کی روح کو ازیت نہ دے۔ بلکہ ہمیں اپنی زندگی میں وہ کرنا چاہیے جس سے سچی خوشی ملے، اس کو انگریزی میں کہتے ہیں۔ Passion

This is not my job, this is my Passion.

 تعریف کے لحاظ سے ہر وہ کام جو آپکو تھکن کا احساس نہ دلائے بلکہ خوشی دے۔ لگاتار خوشی، جتنا زیادہ اتنی خوشی۔ پیشن کو سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، ذرا غور کریں ایک جوان سارا سارا دن دھوپ میں کھڑا کرکٹ کھیلتا ہے اور اسے ذرا بھی تھکن کا احساس نہیں ہوتا؟ ایک بچہ 22 گھنٹے مطالعہ کرتا ہے اور اسے دنیا کا احساس نہیں ہوتا۔

سچی بات یہ ہے وقت سب سے بڑا استادہے، اور بڑے بڑے تجربات زندگی میں ہماری تربیت کرتے رہتے ہیں۔ ذرا سا انسانی مصروفیات پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دنیا کا ہر انسان ہی مصروف ہے، مشغول ہے مگر بلحاظ درجہ بندی کچھ لوگ تعمیر میں مصروف رہتے ہیں تو کچھ تخریب میں۔ تعمیر والوں میں چند سیا نے ہوتے ہین اور باقی روزمرہ کو نبٹا نے والے۔

سیانوں کے سیانا بننے میں سب سے بڑا ہاتھ "علم"کا ہوتا ہے۔ علم ہی ہماری اصل میراث ہے اور علم ہی اس دنیا کی روشنی ہے۔ گویا جتنا زیادہ علم ، جتنی زیادہ معلومات، اتنا ہی انسان معاملہ فہم، ذمہ دار، باخبر اور باشعور ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک قابل توجہ خبر ہے کہ چین نے امریکہ کی 145 سالہ معاشی برتری ختم کر دی۔ یہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ یہ مسلسل محنت، احساس ذمہ داری، اپنی پہچان۔ خودی اور خودشناسی، اپنی افرادی قوت کا صحیح استعمال، اپنے خطہ زمین کا بہترن مصرف ہے جو چین کو اس بلندی پر لے گیا ہے۔

مضامین، سیمنار، باتیں کرنا آسان ہے مگر کوئی عمل کر کے دکھانا ایک الگ مرحلہ۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ مجھے کم از کم 10 سال دنیا بھر کا مطالعہ کرنا ہے۔ کیونکہ ہم ہی ہیں اس دنیا میں اللہ کے خلیفہ۔ کیا ہمیں اپنی اس دنیا کے چپے چپے، شہر شہر، قریہ قرہ سے واقف نہیں ہونا چاہئے؟

یقینا میری پہلی ترجیح علم اور مسلسل علم ہے، مگر ایک نفسیاتی اصول بھی مد نظر ہے کہ جب تک کوئی مضبوط وجہ نہ ہوں طبیعت کسی کام پر مائل نہیں ہوتی۔ علم کی اہمیت مجھ پر واضح ہے مگر نئی کتاب اٹھانا، نئے مضامین تلا ش کرنا، دنیا بھر کی حکومتوں، سیاسی ، ثقافتی، سماجی ، مذہبی مقامات اور حالات کو جاننے کے لئے کوئی مضبوط دلیل تو ہونی چاہئے جو اس کی ترغیب دے۔

جی ہاں، بظاہر یہ ویب سائٹ ہی نظر آئی کے اپنے مطالعے بلکہ بڑی حد تک نقل ماری کو اسی شوق میں کہ چلو ویب سائٹ کے لیئے مواد Contentتیار ہورہا ہے کرنے بیٹھ گیاہوں۔ میری کوشش یہاں پر زیادہ سے زیادہ معلومات کو مختصرا اردو میں ڈھالنا ہے۔ تاکہ کوئی پڑھے نہ پڑھے میرا مشغلہ چلتا رہے، اور دعا ہے کہ اسی مشغلے سے رزق کا بندوبست بھی ہو جائے، کہ جناب جاوید صاحب فرماتے ہیں، یہ اللہ کا سب سے بڑا کرم ہوتا ہے کہ انسان کا محبوب ترین مشغلہ ہی اس کے رزق کا ذریعہ بن جائے۔

امید ہے آپ اس ویب سائٹ کو ضرور وزٹ کریں گے۔ میں نے  ویب سائٹ ڈیزائننگ کا بڑا کورس کیا تھا،ویب سائٹ بناتا اورپڑھاتا بھی ہوں اس سلسلہ میں کسی کو میری خدمات درکار ہوں تو رابطہ کیا جائے۔

03412715135

saryrang@gmail.com


scroll to top