بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » اہم » انسانی آنکھ کی ساخت اور افعال

انسانی آنکھ کی ساخت اور افعال

شاعری نامکمل ہے محبوب کی آنکھ کے بغیر، اسی طرح تیری آنکھو ں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے، جیسے مقبول عام شعروں سے آنکھ کے نہ صرف حسن کا اظہار ہوتا ہے بلکہ انسانی جسم کے اس سب سے قیمتی حصے کی اہمیت بھی نظر آتی ہے۔ انسانی آنکھ قدرت کا انمول ترین عطیہ ہے، پل بھر کسی طرف دیکھنے میں کروڑوں اربوں اقسام کے مختلف عمل آنکھ اور دماغ کے درمیان وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ پردہ جشم تک پہنچے والی تصویر الٹی ہوتی ہے تک ہمیں سیدھا دیکھائی دیتا ہے۔

انسانی آنکھ ایک کرے کی طرح ہے جس میں قدرتی محدب عدسہ لگا ہے جو ہزاروں جیتے جاگتے شفاف خلیوں سے بنا ہے۔ انسانی آنکھ ایک کیمرے کی طرح کام کرتی ہے اس کا قطر 2.5سینٹی میٹرہوتا ہے ۔

انسانی آنکھ کے تین بڑے حصے

سفید جشم Sclerotic غیر شفاف جھل Choroidپردہ چشم Retina
آنکھ کے دعدسے کے سامنے کئی چھوٹے چھوٹے پٹھے ہوتے ہیں جن میں سوراخ ہوتے ہیں اس سوراخ سے روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے آنکھ کا بیرونی حصہ سفید چشم موٹا اور غیر شفاف ہوتا ہے اس کے سامنے کا حصہ شفاف ہوتا ہے جسے قرینہ (Corea)کہتے ہیں۔ روشنی قرینہ سے داخل ہوتی ہے اور کرائڈ کا کام کرتی ہے اس کے سامنے والے حصے میں ایک رنگین پردہ ہے جسے آئرس (Iris)کہتے ہین جو عدسہ کے بالکل سامنے ہے۔ یہ خود کار پردہ ہوتا ہے اس کے سکڑنے سے پتلی(Pupil)بڑی ہوجاتی ہے اور زیادہ روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے یہ پتلی تیز روشنی میں سکڑتی اور کم روشنی میں پھیلتی ہے دن کی روشنی میں اس کا قطر ۲ ملی میڑ اور اندھیرے میں ۶ ملی میٹر ہوتا ہے۔

اس کا قطر روشنی کی مقدار کنٹرول کرنے کے لئے خود کار طریقہ سے آگے پیچھے ہوتا ہے۔ آئرس کے پیچھے ایک شفاف اور لچکدار محدب عدسہ ہوتا ہے اس عدسے کے طول ماسکہ کو آنکھ کے پٹھے کم یا زیادہ کرتے ہیں کسی جسم سے آنے والی روشنی کی شعاع عدسہ پر پڑنے کے بعد پردہ چشم یعنی رٹینا پر مرتکز ہوتی ہے جو کہ آنکھ کے پچھلے حصے میں ہوتا ہے ریٹینا پربننے والے عکس الٹے ہوتے ہیں۔ لیکن دماغ انہیں سیدھا کرکے دکھاتا ہے۔

انسانی آنکھ کے بنیادی حصے

انسانی آنکھ کے بنیادی حصے

کورنیا اور عدسہ کے درمیان پانی کی طرح کی مائع ہے،ریٹینا کی جگہ روشنی کے لئے نہایت حساس ہیں اس پر جب روشنی پڑتی ہے تو اس میں کیمیائی تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو صرف اتنی دیر قائم رہتی ہے جب تک ان پر روشنی پڑتی رہے ہر خلیے کے ساتھ ایک عصبہ Nerveہوتا ہے۔ جس کا دوسراسرا دماغ میں ہے۔ ان تمام عصبوں کو گچھے کو بصر ی عصبہ (Optic Nerve)کہتے ہیں ۔

خلئے میں پیدا ہونے والی یہ کیمیائی تبدیلی عصبے کو اکساتی ہے جو فورا دماغ میں اس کی اطلاع پہنچاتا ہے ، جوابی کاروائی کے لئے دماغ متعلقہ عضو تک احکامات پہنچاتا ہے۔[wysija_form id="1"]

انسانی آنکھ کی ساخت اور افعال Reviewed by on . شاعری نامکمل ہے محبوب کی آنکھ کے بغیر، اسی طرح تیری آنکھو ں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے، جیسے مقبول عام شعروں سے آنکھ کے نہ صرف حسن کا اظہار ہوتا ہے بلکہ انسانی شاعری نامکمل ہے محبوب کی آنکھ کے بغیر، اسی طرح تیری آنکھو ں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے، جیسے مقبول عام شعروں سے آنکھ کے نہ صرف حسن کا اظہار ہوتا ہے بلکہ انسانی Rating:
scroll to top